Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
424 - 531
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے کبھی انہیں بُرابھلا نہ کہا۔ان کے بارے میں مشہور شاعر کُثَیِّرعَزّہ نے کہا:
وَلِيْتَ فَلَمْ تَشْتُمْ عَلِيًّا وَّلَمْ تَخِفْ		بَرَيًا وَّلَمْ تَتْـبَعْ سَجِيَّ‍ةَ مُجْرِم
وَقُلْتَ فَصَدَّقْتَ الَّذِیْ قُلْتَ بِالَّذِیْ		فَعَلْتَ فَاَضۡحٰی رَاضِيًا كُلُّ مُسْلِم
	ترجمہ:آپ خلیفہ بنےلیکن آپ نےحضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوکبھی بُرابھلانہیں کہااور مخلوق سے خوف زدہ ہوئے نہ مجرمانہ عادتیں اپنائیں اور آپ نے جو کہااس پر عمل کر کے سچ کر دکھایااور ہر مسلمان آپ سے راضی ہو گیا۔
(7378)…حضرتِ سیِّدُناعُبَـیْدُاللہبن عُمَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹی حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےپاس آکرکرکہنےلگیں: امیرالمؤمنین! میں عبدُاللہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹی ہوں،میرے والدِماجدبدر میں حاضر ہوئے اور غزوۂ  اُحد میں شہید ہو ئے۔ان کی بات سن کرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:
تِلْكَ الْمَكَارِمُ لَا قَعْبَانِ مِنْ لَبَنٍ		شِيۡبَا بِمَاءٍ فَعَادَ بَعْدُ اَبْوَالَا
	ترجمہ:یہ اعلیٰ ترین اوصاف ہیں،یہ پانی ملے ہوئےدودھ کے دو پیالے نہیں ہیں جو  پیشاب بن کر لوٹ  آئے۔
	پھر فرمایا:جو کچھ لینا ہے بیان کیجئے پھر انہوں نے جو مانگا آپ نے  انہیں وہ عطافرمادیا۔
ایک جوڑے پر اِکتفا:
(7379)…حضرتِ سیِّدُناعَطاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے ایک بارنمازِجمعہ تاخیرسے پڑھائی۔ ہم نے ان سے پوچھا:امیرالمؤمنین!آج آپ نے جمعہ کی نماز تاخیر سے کیوں  پڑھائی؟فرمایا:غلام کپڑے دھونےلےگیاتھاتوکپڑے اسی کے پاس رہ گئے تھے۔
	راوی کہتے ہیں:اس  جواب سے  ہم نے اندازہ لگالیاکہ ان کے پاس اس کے علاوہ دوسرا کپڑا نہیں ہے پھر انہوں نے فرمایا:مجھے مدینے کے وہ دن یاد  ہیں  جب مجھے یہ خوف لاحق رہتاتھاکہ  کہیں  لباس کی یہ نعمت  مجھ سے سَلْب نہ ہوجائےاس کے بعد یہ شعر کہا:
قَضٰى مَا قَضٰى فِيْمَا مَضٰى ثُمَّ لَمْ تَكُنْ		لَهٗ عَوْدَةٌ اُخْرَى اللَّيَالِی الْغَوَابِر