Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
423 - 531
وَاَنْتَ تَتْـبَعُهُمْ لَا زِلْتَ مُجْتَهِدًا		سَقْيًا لَّهُمْ سُنَنٌ بِالْحَقِّ تَقْتَفِرُ
لَوْ كُنْتُ اَمْلِكُ وَالْاَقْدَارُ غَالِبَةٌ		تَاْتِیْ رَوَاحًا وَّتِبْيَانًا وَّتَبْتَكِرُ
صَرَفْتُ عَنْ عُمَرَ الْخَيْرَاتِ مَصْرَعَهُ		بِدَيْرِ سَمْعَانَ لَكِنْ يَغْلِبُ الْقَدْرُ
	ترجمہ:(۱)…اگر کسی کے عدل  کی وجہ سے   اس  پر موت طاری   نہ  ہوتی تو اے  عمر !آپ کو موت نہ آتی۔
	(۲)…آپ نے  حق  کے  بہت سے طریقوں کوزندہ کیاجو تقریباًمُردہ  ہوچکے تھے ابھی توآپ سے  اور بھی بہت اُمیدیں تھیں۔(۳)…میں اور میرے  ہَمْنَوا اس  انصاف  پسند شخص پر  غمزدہ  ہیں جسے موت  نے اچانک آلیا۔
	(۴)…تین عَظِیْمُ الشّان  ہَستِیوں  کی مثل میری  آنکھوں  نے نہیں  دیکھاجن کےمُبارَک اَجسام مسجدِنبوی کے  اندر مزاروں میں آرام فرما ہیں ۔
	(۵)…آپ کسی پیاسےکی مانندان حضرات کی اتباع میں کوشاں رہےاوران کےطریقوں کوٹھیک ٹھیک اپنایااور حق کی راہیں آپ  کی تلاش میں رہیں ۔
	(۶،۷)…اگرمجھےاختیارہوتاتومیں دیرسمعان پہنچنےوالےحضرت سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی برکتوں، بھلائیوں کوروک لیتامگرتقدیرغالب ہےاورتقدیریں غالب ہی رہتی ہیں جن کانظارہ ہم صبح،دوپہراورشام کرتےہیں۔ 
(7376)…حضرتِ سیِّدُناابوبکربن عیاشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کا انتقال ہوا تو فَرزْدَق شاعر نے یہ اشعار کہے:
كَمْ مِنْ شَرِيْعَةِ حَقٍّ قَدْ شَرَعْتَ لَهُمْ		كَانَتْ اُمِيْتَتْ وَاُخْرٰى مِنْكَ تُنْتَظَرُ
يَا لَهْفَ نَفْسِیْ وَلَهْفَ اللَّاهِفِيْنَ مَعِیَ		عَلَى الْعُدُوْلِ الَّتِیْ تَغْتَالُهَا الْحُفَرُ
	ترجمہ:آپ نے  حق  کے  بہت سے طریقوں کوزندہ کیاجو تقریباًمردہ  ہوچکےتھے ابھی توآپ سےاوربھی بہت اُمیدیں تھیں۔میں اور میرے  ہَمْنَوا اس انصاف  پسند شخص پر  غمزدہ  ہیں جسے موت  نے اچانک آلیا۔
کردار کے غازی:
(7377)…حضرتِ سیِّدُناجَعْونَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ بنواُمیہ کاجوبھی حکمران آیااس نے  امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکوبُرابھلاکہاجبکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز