هُوَ الْمَرْءُ لَا يُبْدِی اَسًى مِّنْ مُّصِيْبَةٍ وَّلَا فَرَحًا يَّوْمًا اِذَا النَّفْسُ سُرَّتْ
قَلِيْلُ الْاَلَايَا حَافِظٌ لِّيَمِيْنِهٖ فَاِنْ بَدَرَتْ مِنْهُ الْاَلِيَّةُ بَرَّتْ
ترجمہ:یہ وہ انسان ہےجو مصیبت کے وقت مایوسی اور دل کی خوشی کے وقت خوشی کا اظہار نہیں کرتا۔قسمیں کم کھاتا ہے اور اپنی قسم کی حفاظت کرتا ہے،اِس نے جب بھی کسی بات پر قسم کھائی وہ پوری ہو کر رہی۔
وصال پر کہے جانے والے اشعار:
(7374)…مشہورشاعرجَرِیر نے حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی وفات پر یہ اشعار کہے:
تَنْعِی النُّعَاةُ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَنَا يَا خَيْرَ مَنْ حَجَّ بَيْتَ اللهِ وَاعْتَمَرَا
حُمِّلْتَ اَمْرًا عَظِيْمًا فَاضْطَلَعْتَ بِهٖ وَسِرْتَ فِيْهِمْ بِحُكْمِ اللهِ يَا عُمَرَا
اَلشَّمْسُ كَاسِفَةٌ لَّيْسَتْ بِطَالِعَةٍ تَبْكِی عَلَيْكَ نُجُوْمُ اللَّيْلِ وَالْقَمَرَا
ترجمہ:حج وعمرہ کرنےوالوں میں سےسب سےبہترشخص امیرالمؤمنین کےوصال کی ہمیں خبرملی۔اےعُمَر! آپ کو جو بڑامعاملہ پیش آیاآپ نے اس پر صبر کیااوراللہعَزَّ وَجَلَّ کے حکم کواپنی رعایا میں جاری کیا۔سورج کو گرہن لگ گیاوہ ظاہر نہیں ہورہا اور رات کے چاندتارے آپ پر آنسو بہا رہے ہیں۔
(7375)…حضرتِ سیِّدُناعَمْروبن صالح زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتےہیں:ہمیں ایک قابلِ اعتماد شخص نے بتایا کہ حضرت مُحارب بن دِثارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے جنازے میں حاضر ہوئے توانہوں نے کسی سےایک صفحہ منگوایا اورکہا:لکھو،تواس نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھی۔ آپ نے فرمایا:اِسے مٹا دوکیونکہ شعر کے لئے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نہیں لکھی جاتی پھر آپ نےیہ اشعار کہے:
لَوْ اَعْظَمَ الْمَوْتُ خَلْقًا اَنْ يُّوَاقِعَهُ لِعَدْلِهٖ لَمْ يُصِبْكَ الْمَوْتُ يَا عُمَرُ
كَمْ مِنْ شَرِيْعَةِ حَقٍّ قَدْ نَعَشْتَ لَهُمْ كَادَتْ تَمُوْتُ وَاُخْرَى مِنْكَ تُنْتَظَرُ
يَا لَهْفَ نَفْسِیْ وَلَهْفَ الْوَاجِدِيْنَ مَعِیَ عَلَى الْعُدُوْلِ الَّتِیْ تَغْتَالُهَا الْحُفَرُ
ثَلَاثَةٌ مَّا رَاَتْ عَيْنَیَّ لَهُمْ شَبَهًا تَضُمُّ اَعْظُمَهُمْ فِی الْمَسْجِدِ الْحُفَرُ