Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
420 - 531
	ترجمہ:(۱)…آج تُو جاگ  رہا ہے  یاسورہاہے؟ اور حیران وسرگرداں شخص سو بھی کیسےسکتا ہے۔
	(۲)…اوراگر تو  صبح تک جاگنے والا ہوتا  توتیرے آنسوؤں کی برسات آنکھوں  کی  پُتلیاں  پھاڑ دتی۔
	(۳)…بلکہ   تو  لمبی اور پرسکون نیند  لے کر صبح کررہا ہے اور بڑے اور بھیانک معاملات تیرے پاس آ چکے  ہیں ۔
	(۴)…اےدنیاکےدھوکےمیں پڑنےوالے!تیرادن خطاؤوں اورغفلتوں میں گزررہاہےاوررات سوتے ہوئے، تیری بربادی یقینی ہے۔(۵)…جیسےسونے والے کو خواب کی  لذت نے دھوکےمیں رکھاایسےہی فانی  چیزوں  نے تجھے  دھوکے میں ڈال کر خواہشات   میں گھیر رکھا ہے۔(۶)…جس میں تومشغول ہےعنقریب  اس کےانجام پر پچھتائے گا،چوپائےدنیا میں ایسی ہی زند	گی جیتے ہیں۔
(7369)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن حسینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوان کے کسی رفیق نے بتایا کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز  نے فرمایا:
اِنَّمَا النَّاسُ ظَاعِنٌ وَّمُقِيْمُ		فَالَّذِیْ بَانَ لِلْمُقِيْمِ عِظَهْ
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعِيْشُ شَقِيًّا		جِيْفَةَ اللَّيْلِ غَافِلَ الْيَقَظَهْ
فَاِذَا كَانَ ذَا حَيَاءٍ وَّدِيْنٍ		رَاقَبَ الْمَوْتَ وَاتَّقَى الْحَفَظَهْ
	ترجمہ:(۱)…بعض لوگ بعض کےمقابلے میں دنیاسےجلدی چلےجاتےہیں تو اس چیز کی نصیحت کرو جومقیم سے جدائی کا باعث بنتی ہے ۔(۲)…بہت سے لوگ بد بختی کی زندگی جیتے ہیں رات کو بے جان ہوتے ہیں اور جاگتے ہیں تو غافل ہوتے ہیں۔(۳)…اگر وہ حیا اور دین والے ہوتے تو موت کو یاد رکھتےاور نگہبان فرشتوں سے ڈرتے۔
سیِّدُناعُمَربن عبدُالعزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہکے
اوصاف پر مشتمل اشعار
(7370)…حضرتِ سیِّدُناعمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے ایک صاحبزادے کا بیان ہے :والد ماجد  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کی قبر کی جگہ خرید لیں تو ہم نے وہ جگہ ایک راہب سے خرید لی۔ شاعر کہتا ہے:
اَقُوْلُ لَمَّا نَعَى النَّاعُوْنَ لِیْ عُمَرَا		لَا يَبْعُدَنَّ قِوَامُ الْعَدْلِ وَالدِّيْن