رات میں بارش ہوتی تو آ گ روشن کرکے علاقے کے بےسہارا لوگوں کے پاس جاکر پوچھتے:”کیا آپ کی چھت ٹپک رہی ہے؟ کیا آپ کو آگ کی ضرورت ہے؟“اور صبح کو بےسہارا لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے پوچھتے:”کیا آپ کو بازار سے کچھ منگوانا ہے؟ کیاآپ لوگوں کو کچھ چاہئے؟“
(6222)…حضرتِ سیِّدُنا وکیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع کے والد بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا زُبید ایامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک نابینا سوال کے ارادے سے آیا تو آپ نے فرمایا:”اگر تم کچھ مانگنا ہی چاہتے ہو تو میرے ساتھ ایک اور شخص بھی ہے۔“
رات کے تین حصے:
(6223)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن زُبید اِیامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب نے رات کو تین حصوں میں بانٹ رکھا تھا، ایک حصہ اپنے لئے، ایک میرے لئے اور ایک میرے بھائی کے لئے۔ آپ تہائی رات تک قیام کرتے پھر مجھے پاؤں سے ہلا کراُٹھاتے، میری سستی دیکھتے تو فرماتے: بیٹا! سوجاؤ، میں تمہاری جانب سے عبادت کر لیتا ہوں۔ پھر میرے بھائی کے پاس آتے اور انہیں پاؤں سے ہلاکر اٹھاتے، اگر ان کے عمل میں سستی دیکھتے تو فرماتے: بیٹا! سو جاؤ، میں تمہاری جانب سے عبادت کر لیتا ہوں۔ اس طرح آپ ساری رات قیام کرتے حتّٰی کہ فجر کا وقت شروع ہو جاتا۔
(6224)…حضرتِ سیِّدُناسفیانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کہتے ہیں:لوگوں میں مشہور تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبید ایامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے رات کا وقت اپنے اور اپنے بیٹوں کے لئے بانٹ رکھا تھا۔ جب ان میں کوئی سست ہوجاتا تو اس کی جانب سے عمل کرتے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مکَّہٴ مکرَّمہ سے واپس آتے تو گھروالوں کو آپ کی آمد کا علم اس وقت ہوتا جب آپ مسجد میں اذان دیتے۔
(6225)…حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اگر مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کسی بندے کی کھال بننے کا اختیار ملتا تو میں حضرتِ سیِّدُنا زُبید ایامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کو اختیار کرتا۔
آلاتِ موسیقی سے نفرت:
(6226)…حضرتِ سیِّدُنا اشعث بن عبدالرحمٰن بن زُبید ایامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی بیان کرتے ہیں کہ میرے