پھر آپ نے سات دینار منگوائے اور انہیں صدقہ کر کے فرمایا:ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں اس لئے دیتے ہیں تاکہ اس کی عطا کے حق دار بن جائیں۔
غافل کو نصیحت:
(67-7366)…حضرتِ سیِّدُناحمزہ زَیّات اورحضرتِ سیِّدُنامحمدبن قیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز یہ اشعار پڑھا کرتے تھے :
نَهَارُكَ يَا مَغْرُوْرُ سَهْوٌ وَّغَفْلَةٌ وَلَيْلُكَ نَوْمٌ وَّالرَّدٰى لَكَ لَازِم
وَتَشْغَلُ فِيْمَا سَوْفَ تَكْرَهُ غِبَّهُ كَذٰلِكَ فِی الدُّنْيَا تَعِيْشُ الْبَهَائِم
ترجمہ:(۱)…اے دھوکے میں مبتلا ہونے والے!تیرا دن خطاؤوں اور غفلتوں میں گزررہا ہےاوررات سوتے ہوئے،تیری بربادی یقینی ہے۔
(۲)…جس میں تومشغول ہےعنقریب اس کےانجام پر پچھتائے گا،چوپائے دنیا میں ایسی ہی زندگی جیتے ہیں ۔
اس کے بعد قرآنِ کریم کی ان آیات کی تلاوت کرتے:
اَفَرَءَیۡتَ اِنۡ مَّتَّعْنٰہُمْ سِنِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾ۙثُمَّ جَآءَہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۰۶﴾ۙ مَاۤ اَغْنٰی عَنْہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُمَتَّعُوۡنَ ﴿۲۰۷﴾ؕ (پ۱۹،الشعرآء:۲۰۵تا۲۰۷)
ترجمۂ کنزالایمان:بھلادیکھوتواگرکچھ برس ہم انھیں برتنے دیں پھر آئے اُن پروہ جس کا وہ وعدہ دئیے جاتے ہیں تو کیا کام آئے گا ان کے وہ جو برتتے تھے ۔
(7368)…حضرتِ سیِّدُناقاسم بن غَزوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ذکر کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز یہ اشعار پڑھا کرتے تھے :
اَيَقْظَانُ اَنْتَ الْيَوْمَ اَمْ اَنْتَ نَائِمُ وَكَيْفَ يُطِيْقُ النَّوْمَ حَيْرَانُ هَائِم
فَلَوْ كُنْتَ يَقْظَانَ الْغَدَاةِ لَخَرَّقَتْ مَحَاجِرَ عَيْنَيْكَ الدُّمُوْعُ السَّوَاجِم
بَلْ اَصْبَحْتَ فِی النَّوْمِ الطَّوِيْلِ وَقَدْ دَنَتْ اِلَيْكَ اُمُوْرٌ مُّفْظِعَاتٌ عَظَائِم
نَهَارُكَ يَا مَغْرُوْرُ سَهْوٌ وَّغَفْلَةٌ وَلَيْلُكَ نَوْمٌ وَّالرَّدٰى لَكَ لَازِم
يَغُرُّكَ مَا يَبْلٰی وَتُشْغَلُ بِالْهَوٰى كَمَا غَرَّ بِاللَّذَّاتِ فِی النَّوْمِ حَالِم
وَتَشْغَلُ فِيْمَا سَوْفَ تَكْرَهُ غِبَّهُ كَذٰلِكَ فِی الدُّنْيَا تَعِيْشُ الْبَهَائِم