يُرٰى مُسْتَكِيْنًا وَّهُوَ لِلَّهْوِ مَاقِتٌ بِهٖ عَنْ حَدِيثِ الْقَوْمِ مَا هُوَ شَاغِلُهْ
وَاَزْعَجَهٗ عِلْمٌ عَنِ الْجَهْلِ كُـلِّهٗ وَمَا عَالِمٌ شَيْئًا كَمَنْ هُوَ جَاهِلُهْ
عَبُوْسٌ عَنِ الْجُهَّالِ حِيْنَ يَرَاهُمْ فَلَيْسَ لَهٗ مِنْهُمْ خَدِيْنٌ يُّهَازِلُهْ
تَذَكَّرَ مَا يَبْقٰى مِنَ الْعَيْشِ اٰجِلًا فَاَشْغَلَهٗ عَنْ عَاجِلِ الْعَيْشِ اَجَلُهْ
ترجمہ:(۱)…(عالِمِ باعمل)عاجزی و انکساری کرتاہے ، فضول کاموں سے دور رہتاہے اور لوگوں کی باتوں سے صرفِ نظر کر کے اپنے کام سے کام رکھتاہے۔(۲)…علم مکمل طورپر اسے جہالت سےمُتَنَفِّر کرچکا ہے اورعالِم وجاہل برابر نہیں ہوتے۔(۳)…جاہلوں سے خشک رو رہتاہے ،ان میں کسی سے اس کایارانہ نہیں کہ اس سے ہنسی مذاق کرے۔(۴)…کچھ عرصے بعد ملنے والی دائمی زندگی کو یاد کرتاہے، موت کی یادنے اسے جلدفناہونےوالی زندگی سے غافل کر دیا ہے۔
دنیا سے خالی ہاتھ جانا ہے :
(7364)… حضرتِ سیِّدُنااِبْنِ ابوعائشہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز اکثریہ اشعارپڑھا کرتے تھے:
فَمَا تَزَوَّدَ مِمَّا كَانَ يَجْمَعُهٗ اِلَّا حَنُوْطًا غَدَاةَ الْبَيْنِ مَعَ خِرَق
وَغَيْرَ نَفْحَةِ اَعْوَادٍ تُشَبُّ لَهٗ وَقَلَّ ذٰلِكَ مِنْ زَادٍ لِّمُنْطَلِق
ترجمہ:(۱)…صبح سویرے جب مردے کو لے جایا جا رہا ہوتا ہے تواس کی جمع پونجی میں سے فقط چند کپڑےاور مُردوں کولگائی جانے والی خوشبوساتھ ہوتی ہے ۔(۲)…نہ ہی مہکنے والی خوشبو مہیا ہوتی ہے کہ اسے دُھونی دی جائے اورقبر تک پہنچانے کے لئے تھوڑا سا سامان ساتھ ہوتا ہے۔
(7365)…حضرتِ سیِّدُنارَجاء بن حَیْوَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ذکرکرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے پاس موت کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے یہ شعرپڑھا:
اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْمَوْتَ اَدْرَکَ مَنْ مَّضٰى فَلَمْ يَنْجُ مِنْهُ ذُوْ جَنَاحٍ وَّلَا ظُفُرْ
ترجمہ:کیا تم نے نہ دیکھا کہ پہلے والوں کو بھی موت نے آلیا پس موت سے کوئی پروں والا بچے گا نہ ناخن والا۔