Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
417 - 531
 تو اس جیسے عمل  نہ کرنے پر آپ کو ندامت ہوگی لیکن جوکرناتھاوہ تو آپ موت سے پہلے کرچکے۔
	ان اشعار کو سن کر حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز اتنا روئےکہ غَش کھا کرگرپڑے۔
موت کسی کی رعایت نہیں کرتی:
(7362)… حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنبیان کرتےہیں:میں ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےپاس آیا،اس وقت ان کےپاس شاعرحضرت سابِق بَربَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی موجود تھےاور اشعار سنا رہے تھے، انہوں نے اپنےکلام کا اختتام ان اشعار پر کیا:
فَكَمْ مِنْ صَحِيْحٍ بَاتَ لِلْمَوْتِ اٰمِنًا		اَتَتْهُ الْمَنَايَا بَغْتَةً بَعْدَ مَا هَجَعْ
فَلَمْ يَسْتَطِعْ اِذْ جَاءَهُ الْمَوْتُ بَغْتَةً		فِرَارًا وَّلَا مِنْهُ بِقُوَّتِهِ امْتَـنَعْ
فَاَصْبَحَ تَبْكِيْهِ النِّسَاءُ مُقَنَّعًا		وَّلَا يُسْمِعُ الدَّاعِی وَاِنْ صَوْتَهُ رَفَعْ
وَقُرِّبَ مِنْ لَّحْدٍ فَصَارَ مَقِيْلَهٗ		وَفَارَقَ مَا قَدْ كَانَ بِالْاَمْسِ قَدْ جَمَعْ
فَلَا يَتْرُکُ الْمَوْتُ الْغَنِیَّ لِمَالِهٖ		وَلَا مُعْدِمًا فِی الْمَالِ ذَا حَاجَةٍ يَّدَعْ
	ترجمہ:(۱)…کتنے ہی تندرست موت سے بے خوفی کے عالَم میں رات گزار رہے تھے کہ سونے کے بعد موت نے انہیں آلیا۔(۲)…اچانک موت آجانے پر وہ  بھاگ سکےنہ ہی اپنی  طاقت سےاسےروک پائے ۔
	(۳)…اس نے اس حال میں صبح کی کہ باپردہ عورتیں اس پر بَیْن کر رہی تھیں اور وہ کسی پکارنے والے کو سنانہیں  سکتا تھا اگرچہ اس کی آواز بلند ہی کیوں نہ ہو۔(۴)…وہ قبر سے قریب ہوا اور قبر اس کا ٹھکانا بن گئی اوراس سے دور ہوگیاجو کل تک جمع کیا تھا۔	(۵)…موت کسی مال دارکومال کی وجہ سے چھوڑتی  ہے نہ  ہی مال سے محروم محتاج کو۔
	ان اشعار کو سن کر حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز روتےاورتڑپتے رہے حتّٰی کہ غش کھا کر گر گئے پھر ہم وہاں سے لوٹ آئے ۔
باعمل عالِم کی صفات:
(7363)… حضرتِ سیِّدُناوُہَیْب بن وَردرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کثرت سے یہ اشعار پڑھا کرتے تھے: