Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
416 - 531
 عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے ایک عجمی  لونڈی خریدی، ایک مرتبہ اس لونڈی نے کہا: میں نے لوگوں کو تو خوش ہوتے دیکھاہے لیکن انہیں نہیں دیکھا۔ آپ نے کسی سے  پوچھا:وہ کیاکہہ رہی تھی؟ آپ کوبتایاگیاکہ وہ ایسا ایسا کہہ رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: اس پر افسوس ہے!اسے بتاؤ کہ خوشی آگے ہے (یعنی مرنے کے بعدملنے والی نعمتیں)۔
(7359)…حضرتِ سیِّدُناابوحازمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز  نےایک مرتبہ مجھ سےفرمایا:ابو حازم!مجھے کوئی نصیحت کرو۔ میں نے کہا: لیٹ جائیے پھر تصور کیجئے کہ موت آپ کے سر پر ہے اب دیکھئے کہ اس وقت آپ جو پسند کر رہے ہیں اسے فوراً اختیار کر لیجئے اور جو چیز ناپسند کریں  اسے فوراً چھوڑ دیجئے۔
مختصرالفاط میں بڑی نصیحت: 
(7360)…حضرتِ سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو خط لکھاجس کامضمون یہ ہے:”اما بعد!اےامیرالمؤمنین!مرنے کے لئے طویل عرصہ زندہ رہنے کی کیا حیثیت ہے؟ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیےفنا ہونے والی زندگی سے حصہ لے لیجئے۔“وَ السَّلَام
	جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےوہ خط پڑھاتوروکرفرمانےلگے:ابوسعیدنےمختصرالفاظ میں بہت بڑی نصیحت کی ہے۔
غش کھا کر گر پڑے:
(7361)…حضرتِ سیِّدُناعثمان بن عبْدُالحمیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتےہیں  کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے پاس حضرت سابِق بَربَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی آئے تو آپ نے ان سے فرمایا:اے سابق! مجھےمختصراورجامع نصیحت کیجئے۔انہوں نےکہا:امیرالمؤمنین!اِنْ شَآءَاللہعَزَّ  وَجَلَّوہ نصیحت بلیغ بھی ہوگی۔ آپ نے فرمایا:کیجئے۔تو انہوں نے یہ اشعار سنائے:
اِذَا اَنْتَ لَمْ تَرْحَلْ بِزَادٍ مِّنَ التُّقٰى		وَوَافَيْتَ بَعْدَ الْمَوْتِ مَنْ قَدْ تَزَوَّدَا
نَدِمْتَ عَلٰى اَنْ لَّا تَكُوْنَ شَرَكْتَهٗ		وَ اَرْصَدْتَ قَبْلَ الْمَوْتِ مَا كَانَ اَرْصَدَا
	ترجمہ: اگر آپ  نےتقوٰی کو زاد راہ نہیں  بنایااور مرنے کے بعدتقوٰی کو زادِ راہ بنانے والے شخص  سے  ملاقات ہو گی