(7353)…حضرتِ سیِّدُناقَدّاحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ جب موت کاتذکرہ ہوتاتوحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز ذبح ہونےوالےپرندےکی طرح کانپ رہےہوتےاوراتنا روتے کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔
نزعِ روح میں آسانی کیوں پسند نہیں؟
(55-7354)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن ذَرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکۡبَربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتےہیں:اگریہ خلافِ سنت نہ ہوتاتومیں قسم کھالیتا کہ دنیا کی کسی چیزپر اس وقت تک خوش نہیں ہوں گا حتّٰی کہ میں یہ نہ جان لوں کہ موت کے وقت میرے رب عَزَّ وَجَلَّکے بھیجے ہوئے فرشتوں کےچہروں پر میرے بارے میں کیاتاثرات ہیں اورمیں نہیں چاہتا کہ نزع کے وقت مجھے آسانی ملے کیونکہ یہی وہ آخری چیز ہے جس کے سبب مومن کو اجر دیا جاتا ہے۔
موت کی سختی گناہوں کا کفارہ ہے:
(7356)…حضرتِ سیِّدُنااِمام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتےہیں:مجھےیہ پسندنہیں کہ مجھ پرموت کی سختیاں آسان کر دی جائیں کیونکہ یہی وہ آخری چیز ہے جو مسلمان کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔
(7357)…حضرتِ سیِّدُنامَیْمُون بن مہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے پاس بیٹھا تھاکہ آپ نے یہ آیتِ مُبارَکہ تلاوت کی:
اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿۲﴾ (پ۳۰،التکاثر:۱، ۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔
پھر مجھ سے فرمایا:اے میمون! میرے نزدیک قبر ایک ملاقات کانام ہے اور ملاقاتی کواپنے گھریعنی جنت یا دوزخ کی طرف ضرور لوٹنا ہے۔
خوشی اگلے جہاں میں ہے:
(7358)… حضرتِ سیِّدُناحسن بن عُمَیْرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز