Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
414 - 531
رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےاپنے مال سےروزکاایک درہم مسلمانوں کوکھانا کھلانےکےلئےمقررکررکھاتھااورخود بھی ان کےساتھ کھاناکھاتےتھے۔آپ ذِمِّیوں کےپاس جاتےتووہ آپ کوتازہ ترکاری،سبزیاں اوراپنے کھانوں میں استعمال ہونےوالی ان جیسی دیگراشیاءپیش کیا کرتے تو آپ ان کو اس سے بڑھ کر دیتے اوران کے ساتھ کھاتے، اگر وہ آپ سےتحائف وغیرہ قبول نہ کرتے تو آپ  بھی ان کی کوئی چیزنہ کھاتے۔البتہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  مسلمانوں سےکوئی چیز نہیں لیتے تھے۔
فکرِآخرت:
(7350)…حضرتِ سیِّدُناقاسم بنمُخَیْمِرَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی خدمت میں حاضرہوا،میرےدل میں ایک بات کھٹک رہی تھی،میں نےچاہاکہ ان سےکہہ دوں۔چنانچہ میں نےان سےعرض کی:مجھے کسی نے یہ بات بتائی  ہے کہ جو لوگوں پر حاکم ہومگر ان کی غربت  ومحتاجی پر توجہ نہ دےتواللہ عَزَّ  وَجَلَّقیامت کےدن اس کی محتاجی سےصرف ِنظرفرمائےگا۔ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:یہ کیا کہہ رہے ہو؟پھر کافی دیرتک اپنا سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔میں نےانہیں اس معاملے میں فکرمند پایاحالانکہ وہ لوگوں کی خبرگیری کیاکرتے تھے۔
گورنروں کو نماز کی تاکید:
(7351)…حضرتِ سیِّدُنااِمام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےحکومتی عہدےداروں کومکتوب بھیجاجس کا مضمون یہ تھا:نماز کے وقت دیگرمشغولیات سے دوررہوکیونکہ جو نماز کو ضائع کرتا ہے وہ دیگر اسلامی شعار کواس سے بھی زیادہ ضائع کرتا ہو گا۔
(7352)…(الف)حضرتِ سیِّدُناابوعمرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:جودل سےموت کوقریب جانتاہےوہ اپنےپاس موجوداشیاء کوکافی خیال کرتاہے۔
خوفِ خدا کا عالَم:
(7352)…(ب)حضرتِ سیِّدُناسعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدکابیان ہےکہ جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس موت کا ذکر کیا جاتا توآپ کے جوڑ کانپ اٹھتے۔