Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
410 - 531
ودولت جمع کرتا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے مجھے بہترین سامان دیئے تھے جووہ  کسی بندہ کو عطا فرماتاہےلیکن میں سخت حساب  اور نازک سوال سے ڈرتا ہوں مگر جس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّمیری مدد کرے۔وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہ
سیِّدُنا محمد بن کعبعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی نصیحت:
(7338)…قبیلہ بنو سُلیم کےایک بزرگ  شخص کابیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے پاس حضرت ہِشام بن مَصادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادتشریف فرماتھے،دونوں حضرات مَحْوِگفتگوتھے کہ  کسی بات کاتذکرہ ہوا تو حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز رونے لگے۔اسی دوران آپ کے خادم مُزاحِم آکرکہنےلگےکہ حضرتِ سیِّدُنامحمدبن کَعْب قُرَظِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیدروازےپرکھڑےہیں؟آپ نے فرمایا:انہیں اندربھیج دو۔وہ اندرآئےتوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اب تک آنسو نہیں  پونچھے تھے۔حضرتِ سیِّدُنامحمدبن  کعبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہنےلگے:امیرالمؤمنین!آپ کیوں رورہے ہیں؟حضرتِ سیِّدُناہِشام بن مَصاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے کہا:فلاں بات کی وجہ سے رورہے  ہیں۔یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنامحمدبن  کعب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:امیرالمؤمنین!یہ دنیاایک بازار ہےجس سے وہ لوگ بھی چلے گئے جن کو اس نے نفع پہنچایا اور وہ بھی جنہیں اس نے نقصان پہنچایا۔کتنے ہی لوگوں کو اس دنیا نے دھوکے میں مبتلا رکھا جوکہ ہماری طرح اس میں زندگی بسر کررہے تھے حتّٰی کہ  اچانک انہیں موت نے جکڑلیااوروہ  اس دنیا سے خود کو ملامت کرتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ وہ آخرت کےلئے جوچیز  پسندکرتے تھے  تیار نہ کرسکے اور آخرت میں جس  چیز کوناپسند کرتے تھے اس سے بچنے کاانتظام  نہ کرسکے۔جو لوگ  ان کی تعریف  تک نہیں کرتے تھےانہوں نےان کے اموال  بانٹ لئےجبکہ وہ اس ذات کی بارگاہ میں چلے گئے جس کے سامنے وہ کوئی بہانہ  نہیں بنا سکتے۔
	امیرالمؤمنین!ہم پر لازم ہے کہ ہم ان کے اعمال کو دیکھیں تاکہ اُن کے اعمال کی مخالفت کرتے ہوئے ہم ان کے نزدیک قابلِ رشک ہو جائیں اور اُن اعمال کی طرف بھی دیکھیں جن کے بارے میں ہم اُن کے متعلق خوف زدہ تھے تاکہ ان سے بچ سکیں۔
	 امیرالمؤمنین!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرتے رہئے اوردوچیزوں کو اپنے دل میں جگہ دیجئے:(۱)…جن اعمال کےساتھ رب عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں حاضری دینا پسندکرتے  ہیں انہیں آگےبھیجئے اور (۲)…جن اعمال کے ساتھ