Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
41 - 531
نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو اسی سال حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ حج سے واپسی پر آپ کا انتقال ہوگیا اور”نُقْرہ“نامی مقام پر آپ کی تدفین عمل میں آئی۔
مینگنیاں درہم سے بہتر ہیں:
(17-6216)…حضرتِ سیِّدُنا وکیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبید اِیامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے اپنے گھر میں مینگنیاں دیکھیں تو فرمایا:”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ ان مینگنیوں  کی جگہ درہم ہوں۔“
(6218)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبید اِیامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں:”میرے نزدیک (گھر میں)ہزار مینگنیوں کی موجودگی ہزار درہم سے بہتر ہے۔“
(6219)…حضرتِ سیِّدُناحصین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حاکمِ وقت نے حضرتِ سیِّدُنا زُبید اِیامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کو ایک ہزار درہم دیئے مگر آپ نے قبول نہ کئے۔
تربیت کا اَنوکھا انداز:
(6220)…حضرتِ سیِّدُنازِیادرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبید ایامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی اپنے محلےکی مسجدمیں مؤذن تھے۔آپ بچوں کوکہاکرتے:”بچو!چلونمازپڑھو،میں تمہیں اخروٹ دوں گا۔“
بچےآکرنمازپڑھتےپھرآپ کےاردگردجمع ہوجاتے۔ہم نےان سےکہا:”آپ ایساکیوں کرتےہیں؟“  فرمایا:
”اس میں میرا کیا جاتا ہے کہ میں ان کے لئے پانچ درہم کے اخروٹ خریدوں اور وہ نماز کے عادی بن جائیں۔“
بےسہارا لوگوں کی مدد:
(6221)…حضرتِ سیِّدُنا وکیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن نے حضرتِ سیِّدُنازُبید ایامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کا ذکر کیا تو لوگوں نے پوچھا:”اے ابوسفیان!آپ کس کا ذکر کررہے ہیں؟“انہوں نے جواب دیا:میں حضرت زُبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذکر کررہا ہوں، تمہیں معلوم ہے یہ کون تھے؟ آپ قبیلہ”اِیام“سے تعلق رکھتے تھے، آپ نے ایک بکری پال رکھی تھی جس کی بہت ساری مینگنیاں گھر میں جمع ہو جاتی تھیں، آپ فرماتے:”مجھے یہ پسند نہیں کہ اس کی ہر مینگنی کے بدلے درہم ملے۔“جب