(7334)…حضرتِ سیِّدُنا امام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے اپنےایک گورنر کولکھاکہ مسلمان قیدیوں کو فدیہ دے کر آزادکراؤ اگر چہ اس کے لئے سارا مال دینا پڑے۔
گورنر نہ بننے والے سے درگزر:
(5733)…حضرتِ سیِّدُناامام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے ایک شخص کوگورنر کا عہدہ دینا چاہا مگر اس نے انکارکردیا،آپ نے اس سے کہا:میں نے اس کاتَہِیّہ کرلیا ہے۔اس نے کہا:مگر میں نے گورنر نہ بننے کا تہیہ کیا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سے کہا:کیاتم میری نافرمانی کرو گے؟اس نے کہا: اے امیرالمؤمنین!اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا (پ۲۲،الاحزاب:۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تواُنھوں نے اس کے اُٹھانے سے انکار کیا۔
توکیایہ انکار نافرمانی تھا؟یہ سن کرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اُسے چھوڑ دیا۔
(7336)…حضرتِ سیِّدُناہِشامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے(گورنرِ بصرہ)عَدی بن اَرْطَاَہ کولکھاکہ میری بیماری کی عیادت کےحوالےسےتمہاراخط موصول ہوا، میں اسے اپنے لئے ایک مہلت سمجھتا ہوں اور یہی بیماری مجھے موت تک لے جائے گی ۔وَالسَّلَام
خلیفہ کے بیٹے کے نام تعزیتی خط:
(7337)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبنابو عُیَیْنَہ مُہَلَّبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کاوہ خط پڑھاہےجسےانہوں نے(اپنےبعدنامزدخلیفہ)یزیدبن عبْدُالملک کے نام لکھاتھا(جس کامضمون کچھ یوں تھا):اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم!میں تمہارےساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمدکرتاہوں جس کےسوا کوئی معبودنہیں،سُلیمان بن عبْدُالملکاللہعَزَّ وَجَلَّکا بندہ تھا،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی روح بڑی اچھی حالت اوربڑےاچھےوقت میں قبض فرمائی۔اس نےمجھےخلیفہ بنایااورمیرےلئےخودبیعت لی اوریزیدبن عبْدُالملک کو ولی عہد مقرر کیا۔ اگر میں چاہتا تو اس منصب پر ہوتے ہوئے بہت ساری بیبیوں کاانتخاب کرتااور خوب مال