Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
408 - 531
گزشتہ لوگوں کی ہلاکت کاایک سبب:
(7329)… حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن یحییٰ غَسَّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے فرمایا:ہم سے پہلےلوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ انہوں نےحق دار کے حق کو روکا یہاں تک کہ اُن سے حق خریدنا پڑتا تھا اور وہ اس قدر ظلم کرتے تھے کہ ظلم سے بچنے کےلئے فِدیہ دینا پڑتا تھا۔
غرباکی خیرخواہی:
(7330)…حضرتِ سیِّدُنا امام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے بیْتُ المال کے خزانچیوں کو لکھاکہ جب  تمہارے پاس کوئی غریب ایسا دینار لائے  جو نہ چلے تو اسےبیْتُ المال سے دوسرا دینار دے دو۔
(7331)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعُقْبَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے فرمایا:شُبہ کی ہرصورت میں جہاں تک  ہوسکےحدود قائم کرنے سے بچوکیونکہ حاکم کا معاف کرنے میں غلطی کرنایہ اس سے بہتر ہے کہ سزا دینے میں غلطی کرے ۔
حلم کا بہترین نمونہ:
(7332)…حضرتِ سیِّدُناقیس بن عبْدُالملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز قیلولہ(دن کی نیندیاآرام)کےلئے تشریف لےجارہےتھے کہ ایک شخص آیاجس کے ہاتھ میں  کاغذ کا پُلندا(پیکٹ،بنڈل)تھا،لوگوں نے سوچاکہ و ہ آپ کے پاس جاناچاہتا ہےاوراس نےسوچا کہ لوگ اسے آپ تک جانے  نہ دیں گے۔ چنانچہ ا س  نے وہ کاغذ کا پلنداآپ کی جانب  پھینک  دیا۔امیر المؤمنین جیسے ہی مُڑے تو وہ آپ کے  چہرے پر  لگا اور زخمی کرگیا۔حضرتِ سیِّدُناقیس بن عبْدُالملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں:میں نےدھوپ میں آپ کےچہرےپرخون بہتے دیکھالیکن اس کے باوجودآپ نے اس پُلندےمیں لکھی تحریر پڑھی اور اس کی ضرورت پوری کرنے کا حکم فرمایا اور اسے کچھ نہ کہا۔
(7333)…حضرتِ سیِّدُنا امام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے انگوٹھی پر”عُمَر بن عبْدُالعزیز“لکھوا لیاتوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُسے15راتیں  قید میں رکھاپھررہا کردیا۔