Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
406 - 531
خارجی شہر موصل کے کنارے اِکٹھے ہوئےہیں تو میں نے حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو اس سے آگاہ کیا ۔آپ نےبذرِیْعہ خط مجھےحکم فرمایاکہ اِن جھگڑالو لوگوں میں سے کچھ کو میرے پاس بھیج دو اوران کےپاس کوئی چیزگروی رکھواؤاوران کی کوئی چیزگروی رکھ لوپھر ان کوڈاک کی سواری کے ذریعے میرے پاس بھیج دو۔چنانچہ میں نے حکم کی  تعمیل کی  اور انہیں  بھیج دیا۔ امیرالمؤمنین  نے ان کی ہردلیل کا منہ توڑجواب دیا توانہوں نے کہا:جب تک آپ اپنے خاندان والوں کی تکفیر اور ان پر لعنت وملامت نہیں  کریں گےاوران سےبراءت کااظہارنہیں کریں گےاُس وقت تک ہم آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔آپ نے فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے   مجھے لعنت  کرنےکے لئے پیدانہیں کیا،اگرمیں اور تم زندہ رہے تو میں  بہت جلد تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کوروشن راستے پر لےآؤں گا۔انہوں نے آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا  تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے کہا:تمہارے مذہب میں سچ کے سوا کسی اور چیز کی گنجائش نہیں ہے تو بتاؤتم نے کب سے یہ مذہب اختیار کیا ہے؟ انہوں نے کئی سالوں کی تعداد بتائی تو آپ نے ان سےکہا: کیاتم نےکبھی فرعون پر لعنت کی اور اس سے براءت کا اظہار کیا؟ انہوں نے کہا:نہیں ۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے لئے  فرعون پر لعنت نہ بھیجنے کی گنجائش ہو مگر میرے لئے اپنے خاندان والوں کے متعلق اس کی گنجائش نہ ہو  حالانکہ ان میں اچھے بُرےاور نیک و بد ہر قسم کے لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا:یہاں تک  بات ہمیں سمجھ میں آگئی۔ اس کے بعد امیرالمؤمنین نے  مجھے خط لکھ کرفرمایا:تم نے جوگِروی چیز ان کے پاس رکھوائی  تھی  وہ  لے لو اور ان کی  جوچیزیں گروی رکھی تھیں  وہ  انہیں  واپس دے دو۔اگر  یہ لوگ کسی مسلمان یا ذِمّی سے تعارُض کئے بغیر شہروں میں پھرتے رہیں تو ان کو اختیار ہے کہ جہاں چاہیں جائیں لیکن اگر انہوں نے کسی مسلمان یا ذِمّی کے جان ومال سے تعارض کیا تو ان کے مُعاملے میں خُدا کا فیصلہ چاہو۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےان کی طرف ایک خط یہ بھی لکھا:”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِبندۂ خداامیرالمؤمنین عُمَرکی جانب سے خارجی گِروہ کے نام!میں تمہارے ساتھاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد وثناکرتاہوں جس کے سواکوئی معبود نہیں ۔اللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے:
اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجٰدِلْہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ ؕ اِنَّ	
ترجمۂ کنز الایمان:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اوراچھی نصیحت سےاوران سےاس طریقہ پربحث کرو جوسب