Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
402 - 531
رعایا کی بھوک کا خیال:
(7315)…حضرتِ سیِّدُنا نَوْفَل بن ابوفُراترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ کعبۃُ اللہشریف کے خادمین نےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو خط لکھ کر کعبۃُ اللہپرغلاف چڑھوانےکی درخواست کی جیسے پہلے والے خُلَفا کیا کرتے تھے تو آپ نے انہیں یہ لکھا:میں چاہتا ہوں کہ  اس میں لگنے والی رقم سے  بھوکے لوگوں کا پیٹ  بھروں کیونکہ وہ کعبۃُ اللہ سے زیادہ حق دار ہیں۔
حجاج کی روش اپنانے سے منع کردیا:
(7316)…حضرتِ سیِّدُنا نَوْفَل بن ابوفُراترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی طرف سے ایک جگہ کا حاکم مقررتھااورذمیوں  کے کَھلیانوں(غلے  کے انباروں) پر مہر لگاتاتھا،میرے پاس امیرالمؤمنین کاخط آیاجس میں لکھاتھا:”خبردار!ایسا نہ کروکیونکہ  مجھے  پتا چلا ہےکہ  یہ  حجاج کا طریقہ  ہےاورمیں  اس کی  پیروی کو  پسند نہیں کرتا۔“
(7317)…حضرتِ سیِّدُنارَجاء بن ابوسَلَمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ جب  حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےصاحبزادے حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہواتوآپ نے شہروں کی طرف خط لکھ کرنوحہ کرنےسےمنع کیااورلکھا:بے شکاللہ عَزَّ  وَجَلَّکواس کی روح قبض کرنا پسند تھااورہم  اس کی پسندکی مُخالَفَت سے  پناہ مانگتے  ہیں۔
سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ الرَّحْمَہکی قدر و منزلت: 
(7318)…حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِک بن بَزِیْغعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْعبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےگورنرِ بصرہ  عدِی بن  اَرْطَاَہ کوخط لکھاکہ تم  ہمیشہ  خواہ  سردی ہو یا گرمی طریقَۂ سنت کےمتعلق سوال  کے لئے ایک مسلمان شخص کومیرے پاس  بھیج کرمَشقت میں ڈالتے ہو، گویا تم یہ کرکے میری  تعظیم کرتے ہو۔بخدا!تمہارے لئے حسن  بصری کافی  ہیں اور جب میرا یہ خط تمہیں ملےتو اس کےبعد تم میرےلئے،اپنے لئےاورتمام مسلمانوں کےلئےانہی سے سوال کرنا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّحسن بصری پر رحم فرمائےبے شک ان کااسلام میں اعلیٰ مقام ہےاورتم یہ خط ان کے سامنے ہرگزنہ پڑھنا۔