وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیۡ وَ تَرْحَمْنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۱۲،ھود:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگرتو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار (نقصان اُٹھانے والا)ہوجاؤں۔
اورجیساکہ حضرتِ سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَام نےعرض کی:
رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمْتُ نَفْسِیۡ فَاغْفِرْ لِیۡ (پ۲۰،القصص:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اے میرے رب میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے۔
اورجیساکہ حضرتِ سیِّدُنا یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:
لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۷﴾ (پ۱۷،الانبیآء:۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہےتجھ کوبے شک مجھ سے بے جا ہوا۔
عدل وانصاف سے شہر کی مرمَّت:
(7308)…حضرتِ سیِّدُناعبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بیان کرتےہیں کہ کسی گورنر نےحضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کولکھا:ہماراشہرخستہ حال ہوچکا ہے،امیرالمؤمنین اگربہترسمجھیں توکچھ رقم مُہیا کردیں تاکہ اس کی تعمیر ومَرمت ہوسکے۔آپ نے جواباًلکھا:تم نے اپنے خط میں شہر کی خرابی کے حوالے سے جوبات کی ہےوہ میں سمجھ چکااور جب تم میرا یہ خط پڑھو تو فوراً شہرکو عَدْل واِنصاف سے قلعہ بند کرو اور اس کے راستوں کو ظُلْم سے پاک کرو ،یہی اس کی مرمَّت ہے۔وَالسَّلَام
نصیحت آموز جوابی مکتوب:
(7309)…حضرتِ سیِّدُناامام حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو خط لکھاجس میں سلام کے بعد فرمایا: خود کو ان لوگوں میں سےآخری تصور کیجئے جنہیں موت نے آلیا اور وہ مردہ شمار ہو چکے۔آپ نے جواباًلکھا: آپ خودکو یوں خیال کیجئےگویا کہ آپ دنیا میں تھے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ سے آخرت میں ہیں۔
(7310)…حضرتِ سیِّدُنامَعْمَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے گورنرِ بصرہ عَدِی بن اَرْطَاَہ کوخط لکھاکہ تمہارا سیاہ عمامہ باندھنے،عُلَما کی صحبت اختیار کرنےاور