قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی سے پوچھا گیا:”کیا آپ (جہاد میں)حضرتِ سیِّدُنا زید بن امام زَیْنُ العابِدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کا ساتھ دینے نہیں جا رہے؟“تو آپ نے فرمایا:”میں تو اپنے نفس ہی کے ساتھ جہاد میں مشغول ہوں۔“
شفا کے بجائے بھلائی کا سوال:
(6212)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبید اِیامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی بیمار تھے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے اور عرض کی:”آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے شفا طلب کیجئے“یا کہا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو شفا عطا فرمائے۔“تو آپ نے فرمایا:”میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بھلائی طلب کرتا ہوں۔“
(6213)…حضرتِ سیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا زُبید اِیامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ بیمار تھے۔ میں نے کہا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو شفا عطا فرمائے۔“تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:” میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خیر طلب کرتا ہوں۔“
غیبی مدد:
(6214)…حضرتِ سیِّدُنا زُبید اِیامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کے بھتیجے حضرتِ عمران بن عمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ چچاجان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حج کے سفر پر تھے۔ قافلے والوں کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا۔ آپ کو وضو کی حاجت پیش آئی تو آپ کسی کونے میں قضائے حاجت کے لئے چلے گئے۔ واپس آتے ہوئے ایک جگہ پانی دیکھا تو خود وضو کیا اور جاکر قافلے والوں کو اس کے بارے میں بتایا تاکہ وہ پانی جمع کرلیں اور وضو بھی کرلیں۔ قافلے والے اس جگہ آئے تو انہوں نے پانی کا نام ونشان نہ پایا۔
نیک بندوں کی دعا:
(6215)…حضرتِ سیِّدُنا عمران بن عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ معاویہ بن حدیج نے آلِ خارجہ کی ایک عورت سے نکاح کیا۔ عورت کا ایک بھائی اس نکاح پر راضی تھا اور دوسرا ناراض تھا۔ اس نے غصہ میں آکر حاکم سے شکایت کردی۔ حاکم نے صوبے کے گورنر یوسف بن عمر ثَقَفی کو بذریعہ خط حکم دیا کہ گواہوں کی تفتیش کرو اور انہیں پکڑ کر قید کر دو۔ ایک گواہ حضرتِ سیِّدُنا زُبید اِیامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی بھی تھے۔ آپ نے دعا کی:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اس سال حج کی سعادت نصیب فرما اور یوسف مجھے کبھی نہ دیکھ سکے۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ