Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
398 - 531
 مانگو جس طرح دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے لئےمدد مانگتے ہو۔ ہم بھی تمہارےاوراپنےلئےاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کرتےہیں۔سفرجہادمیں اپنے ساتھیوں سے نرمی سے پیش آؤ،انہیں سفر میں ایسی مشقت میں نہ ڈالو کہ تھک جائیں اور نہ اتنا ٹھہراؤ کہ نرمی کا شکار ہوجائیں۔سفر ایسا ہو کہ ان کی اور ان کے ہتھیار بند گھوڑوں کی طاقت وقوت میں کمی نہ آئے کیونکہ تم ایسے دشمن  کی  جانب  رواں ہو کہ وہ اور اس کے ہتھیار بند گھوڑےمقیم اورتازہ دم ہیں۔اگر تم نے اپنے جسم اورہتھیاربندگھوڑوں کوآرام نہ دیاتویہ عمل تمہارےدشمن کوان کےمقیم اورتازہ دم ہونےکی وجہ سےطاقتور بنانےکے مُتَرادِف ہو گااورمدد کرنے والی ذات اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی ہے۔ہرجُمُعہ کےدن ورات اپنےساتھیوں کو آرام کے لئے ٹھہراؤتاکہ ان کے جسم اور سواریاں راحت پائیں  اوروہ اپنے اَسلحہ و سامان وغیرہ اتار کر رکھ سکیں۔صُلح  والی بستی سے ہٹ کرپڑاؤ ڈالنا اور خرید وفروخت یا کسی اورحاجت سے بھی تمہارا کوئی ساتھی ان بستیوں میں نہ جائے مگر جس پر تمہیں اعتمادہو اوراس کی جان وایمان کاخطرہ نہ ہو ۔کوئی بھی صلح والی بستی میں ظلم نہ  کرےاور نہ کسی  گناہ کا اِرتکاب کرے۔بستی کے کسی بھی شخص کوناحق کسی مصیبت میں مت ڈالنا کیونکہ وہ حرمت والے ذِمِّی ہیں اورتم ان سےکئے گئے معاہدے کو پورا کرنے  کے اسی طرح پابند ہو جس طرح وہ عہدہ ذمہ کو پورا کرنے کے پابند ہیں لہٰذا تم حربیوں کے خلاف ذمیوں پر ظلم کرتے ہوئے مدد نہ چاہو۔تم ایسے عربی  جاسوس مقرر کرو جن کے اِخلاص پر تمہیں اعتماد ہوکیونکہ جھوٹے شخص کی خبر تمہیں فائدہ نہیں  دے گی اگرچہ بعض مُعامَلات میں وہ سچ بولتاہواوردھوکادہی کرنےوالاشخص تمہارےخلاف توجاسوس ہوسکتاہے مگر تمہارے حق میں جاسوس  نہیں ہوسکتا۔
سزا کے معاملے میں احتیاط کی نصیحت:
(7303)…حضرتِ سیِّدُناامام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےکسی گورنرکویہ خط لکھا:کسی کواس کےساتھیوں کی موجوگی میں یااس پرغصے کی وجہ سے سزا نہ دو اوراپنے گھر والوں کو بقدرِ گناہ ہی سزادواگرچہ ایک  ہی کوڑاکیوں نہ ہو۔
(7304)…حضرتِ سیِّدُناامام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےاپنے کسی  گورنر کو لکھا:”لشکر کی سب سے کمزور سواری پر سوار ہونا جس کی رفتار تیز نہ ہو ۔“