عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےعیْدُالفطرکےخطبہ میں فرمایا:کیاتم جانتےہوآج کےدن کس لئےجمع ہوئے؟ تم نے 30دن روزے رکھےاور30راتیں (تراویح میں) قیام کیا،اب اپنے رب عَزَّ وَجَلَّسےسوال کرنےنکلے ہو تاکہ وہ تمہارے اعمال قبول فرمائے۔
موت جیساکوئی رنج وغم نہیں:
(7301)…حضرتِ سیِّدُنامُطَرِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کوسبز کپڑوں میں لوگوں سےخطاب کرتےدیکھا،آپ نےموت کاذکر کیااورفرمایا:یہ ایسی شدید ہے کہ کوئی چیز اتنی شدید نہیں اور اس جیسا کوئی رنج وغم نہیں۔
سپہ سالار کونصیحت:
(7302)…ایک قریشی کابیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے اپنے ایک سپہ سالارکو یہ وصیت کی:تم پر لازم ہے کہ ہر حال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتے رہو کیونکہ یہ سب سے بہترتوشہ، سب سےعُمدہ تدبیر اور سب سے بڑی قُوت ہے۔اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لئے دشمن سے بچنے کا جس قَدَر اِہتِمام کرتےہواس سےکہیں بڑھ کراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی سے بچنے کا اِہتِمام کرو کیونکہ میرے نزدیک گناہ دشمن کی سازِشوں سے زیادہ خوفناک ہیں۔ہم دشمنوں کے گناہوں کے سبب ان سے عداوت رکھتےاوران کے خلاف مدد کاسوال کرتے ہیں اوراگر ایسی بات نہ ہوتی تو ہم ان پر جرأت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ہماری تعداد اور قوت ان جیسی نہیں۔یادرکھو!ہم نہ تواپنے غصے کی وجہ سےان پر فتحیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنی طاقت سےان پر غلبہ پاتے ہیں۔سنو!دشمن کے مقابلے میں گناہوں سے زیادہ ڈرنا اوران کے مقابلے میں گناہوں پر زیادہ نظر رکھنا۔یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سےتم پر فِرِشتے مقرر ہیں جو تمہارے سفر و حَضَرکے معاملات کو جانتے ہیں لہٰذا ان سے حیا کرو اور ان کی اچھی صحبت کا حق ادا کرواور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کرکے انہیں اِیذامت دو۔تمہارا گمان ہےکہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں نکلے ہوئے ہوتویہ نہ کہو کہ”ہمارےدشمن ہم سےبدترہیں اورہم خواہ کتنےہی گناہ گارکیوں نہ ہوں وہ ہم پرمُسَلَّط نہیں ہوسکتے۔“کیونکہ بہت سی قَومیں ایسی گزری ہیں جن کے گناہوں کی وجہ سے ان سے زیادہ بُرے لوگ ان پر مُسَلَّط کر دئیے گئے۔نفس پر غَلَبہ پانے کےلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اسی طرح مدد