Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
394 - 531
سیِّدُناعلیُ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بعدجوخُلَفاتھے ان کےساتھ کیامعاملہ کیاگیایہ مجھے  نہیں معلوم۔ اس نے پوچھا: تمہارا کیابنا؟میں نےکہا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے مجھ پر اپنافضل فرمایا اور مجھے اپنی رحمت سے معاف فرماکردائیں جانب والوں کےساتھ جنت میں جانے کاحکم دیا۔
	یہ سُن کراس نے تین مرتبہ کہا:جیسا میں تھا میرا انجام بھی ویسا ہی ہوا۔میں نےاپناسوال دُہراتے ہوئےپوچھا:تم کون ہو؟جواب ملا:میں حجاج بن یوسُف ثَقَفِیہوں۔میں نےتین  باراُس سے کہا:کیا تم حجاج ہی ہو؟اورپوچھا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تمہارے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟اس نے کہا:مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو میں نے اسے سخت عذاب دینے والا اور اپنے نافرمانوں سے سختی کے ساتھ بدلہ لینے والا پایااور  مجھے میرے ہر مقتول کے بدلے میں اسی طرح قتل کیا گیا اور اب اس مقام پر میں اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں اسی چیز کا انتظارکر رہاہوں جس کا تمام کَلِمہ گو انتظار کر رہے ہیں اب پتا نہیں مجھے جنت میں جانے کا حکم ہوتا ہے  یا جہنَّم میں جانےکا۔
	حضرتِ سیِّدُناابوحازمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز سےیہ خواب سننےکےبعدمیں نےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سےعہدکرلیاکہ آئندہ اس اُمَّت کے کسی بھی(مسلمان) شخص کوقطعی جہنمی نہیں کہوں گا ۔
خلافت سے پہلے اور بعد کا حال:
	ایک روایت میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُناابوحازمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:میں مقام خُناصِرہ میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی بارگاہ میں حاضرہوا جبکہ آپ امیر المؤمنین تھے،آپ نے مجھےدیکھاتوپہچان لیالیکن میں آپ کونہ پہچان سکا ۔آپ نےمجھ سےفرمایا:اےابوحازم!میرےقریب آؤ۔ جب میں آپ کے قریب آیا تو میں نے آپ کو پہچان لیااور میں نے کہا:آپ ہی امیر المؤمنین ہیں؟فرمایا:جی ہاں۔میں نے عرض کی:آپ ہی مدینہ مُنَورہ میں سلیمان بن عبْدُالملِک کی طرف سے ہم پر گورنر تھے،اس وقت آپ کی سواری عمدہ ،لباس صاف ستھرا ،چہرہ روشن وچمک دار ،کھانا انتہائی لذیذ،محل عالی شان تھا اور آپ بڑی گفتگو کرنے والے تھے،اب جبکہ آپ امیر المؤمنین ہیں تویہ تبدیلی کیسی؟فرمایا:مجھے وہ حدیث سناؤ