دیر پہلےہی پہنچا ہوں اورمیرااونٹ مسجدکےدروازےپربندھاہواہے۔ گفتگو کےدوران میں نے انہیں پہچان لیااورپوچھا:آپ عُمَر بن عبْدُالعزیز ہیں؟فرمایا:ہاں۔میں نے پوچھا:بخدا!جب آپ خُناصِرہ میں عبْدُالملْک بن مروان کی طرف سے گورنر تھےتواس وقت آپ کا چہرہ تروتازہ، لباس صاف ستھرااور سواری عمدہ تھی۔آپ کاکھانا انتہائی لذیذاور آپ کے پہرےدار انتہائی سخت تھے،اب جبکہ آپ امیر المؤمنین ہیں تو کس چیز نے آپ کی حالت بدل ڈالی؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:اےابوحازِم !میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم دیتاہوں تم ہمیں وہ حدیث سناؤجوتم نےخُناصِرہ میں سنائی تھی۔میں نےکہا:ضرور۔چنانچہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی حدیث سنائی کہرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تمہارے سامنے ایک ایسی دشوار گزار گھاٹی ہےجس سے صرف کمزوراورناتواں لوگ ہی گزرسکیں گے۔“(1)
یہ سن کر امیرالمؤمنین بلندآوازسےرونےلگےحتّٰی کہ ان کی ہچکیاں بلندہوگئیں اورمجھ سے کہا:اے ابوحازم!کیاتم مجھے ایسی ملامت کرو گے کہ میں اس گھاٹی کے لئے خود کو کمزور کر لوں تاکہ اس کے سبب میں نجات پاسکوں کیونکہ میرا نہیں خیال کہ میں نجات پاسکوں گا۔اتنا کہنے کے بعد پھرآپ پربےہوشی طاری ہونےلگی اور آپ دوبارہ بلند آواز سے رونے لگے حتّٰی کہ ہچکیوں کی آوازآنے لگی پھر اچانک کھلکھلاکرہنسنے لگے۔ لوگ یہ کیفیت دیکھ کرآپس میں گفتگوکرنےلگےتومیں نےکہا:خاموش ہوجاؤاوراپنی جگہوں پربیٹھے رہوامیرالمؤمنین کوایک عظیم معاملہ پیش آیاہے۔پھرجب آپ کو بےہوشی سے اِفاقہ ہوا تولوگ آپ کی گفتگو سننے کے لئے بے تاب ہوگئے۔ میں نے کہا:اےامیرالمؤمنین!ہم نے آپ کوبڑی عجیب حالت میں دیکھا۔آپ نے پوچھا:کیا تم لوگوں نے میری حالت دیکھی؟میں نے کہا: جی ہاں۔فرمایا: جب میں تم سے گفتگو کرتے کرتے بے ہوش ہوگیا تومیں نے دیکھا کہ قیامت قائم ہوچکی ہےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مخلوق کوجمع فرمایاہےاوریہ دیکھاکہ لوگوں کی120صفیں ہیں جن میں80صفیں اُمَّتِ محمدیہ کی اورباقی اُمَّتوں کےمُوَحِّدین کی40 صفیں ہیں۔ اسی دوران کرسی رکھ دی گئی،میزان نَصْب کردیاگیااور اَعمال نامےکھول دیئے گئےپھر کسی منادی نےنِدا دی:عبدُاللہبن ابو قحافہ(یعنی حضرت ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)کہاں ہیں؟تو ایک بڑی عُمْر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسندبزار،حدیث ابی درداء، ۱۰/ ۵۴ ، حدیث ۴۱۱۸