رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےدعا مانگتے ہوئےبارگاہِ الٰہی میں یوں عرض کی:اےاللہعَزَّ وَجَلَّ!میں اگرچہ اس بات کا اَہل نہیں ہوں کہ تیری رحمت کامستحق بنوں مگر تیری رحمت تو مجھ تک پہنچ سکتی ہے اور تیری رحمت ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے اور میں بھی ایک شے ہوں تو اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے!مجھے بھی اپنی رحمت میں شامل فرما۔ اےاللہعَزَّ وَجَلَّ!تو نے ایک قوم پیدا فرمائی جس نے تیرے اَحکام کی پیروی کی اور جن کاموں کے لئے تو نے انہیں پیدا کیا تھاوہ اس پرعمل پیرارہی۔اےسب سےبڑھ کررحم فرمانےوالے!تیری اطاعت سے قبل بھی وہ تیری رحمت میں تھے۔
خلیفہ بننےکےبعد پہلی بات:
(7297)…حضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن ابوحکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیۡمبیان کرتے ہیں کہ جس دن حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کوخلیفہ بنایا گیاتو پہلی بات جو برسر منبر میں نےآپ سے سنی وہ یہ تھی:اے لوگو!میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تنہائی یا لوگوں کے سامنےکبھی بھی خلافت کا سوال نہیں کیااورتم میں سے جو مجھے ناپسند کرتا ہے اس کا مُعامَلہ اسی کے حوالے ہےپھر ایک انصاری شخص نے کھڑے ہوکرآپ سے بیعت لی اوردیگر لوگ بھی بیعت لینے لگے۔
بے ہوشی میں قیامت کا منظر:
(7298)…حضرتِ سیِّدُناابوحازِم خُناصِری اَسَدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے دورِخلافت میں جُمُعَہ کےروزدِمَشق آیا،لوگ اُس وقت نمازِ جمعہ کے لئے جارہے تھے،میں نےسوچاکہ اگر مطلوبہ مقام کی طرف سفر جاری رکھوں گاتو نماز چھوٹ جائے گی،لہٰذامیں پہلےنماز ادا کر لوں،یہ سوچ کر میں نمازکےلئےچلااورمسجد کےدروازےکےپاس آکر اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اسے باندھ کر مسجد میں داخل ہوگیا۔امیرالمؤمنین لکڑی کےمنبر پر خطاب فرما رہے تھے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پہچان لیااور مجھےآوازدی:”ابوحازِم!میری طرف آؤ۔“جب لوگوں نے انہیں مجھے آوازلگاتے دیکھا تو میرے لئے جگہ چھوڑ دی اور میں محراب کے قریب ہوگیا۔امیرالمؤمنین منبر سے نیچے اترے لوگوں کونمازپڑھائی پھر میری طرف مُتَوجِّہ ہوکرپوچھا:ابوحازم !تم ہمارے شہر میں کب آئے؟میں نے کہا:تھوڑی