اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾ (پ۲۳،الزمر:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔
باطن سنواروظاہربھی سنورجائےگا:
(7293)…حضرتِ سیِّدُناعبدُاللہبن عَیْزارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے ملک شام میں مٹی کےمنبر پرکھڑے ہوکراللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمدوثناکے بعدہمیں خطبہ دیتے ہوئےفرمایا:اے لوگو!اپناباطن ٹھیک کرلو تمہارا ظاہر بھی درست ہوجائےگااور آخرت کے کاموں میں لگ جاؤتمہارےدُنیاوی مُعامَلات بھی حل ہوجائیں گے۔
سب کے سب عذاب کے حق دار:
(7294)…حضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن ابوحکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیۡمبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کوفرماتےسنا:اللہ عَزَّ وَجَلَّعام لوگوں کے گناہوں کےسبب خاص لوگوں کو عذاب میں مبتلانہیں کرتالیکن جب عَلانیہ گناہ کیا جائے (اور قدرت کےباوجودکوئی منع نہ کرے)تو سب کے سب عذاب کے حق دار ہو جاتے ہیں۔
(7295)…حضرتِ سیِّدُناحاجب بن خُلَیْف بُرجُمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےدورِخلافت میں ان کی خدمت میں حاضرہواآپ لوگوں سےخطاب فرما رہےتھے،میں نےآپ کویہ فرماتےسنا:بےشکرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورحضرتِ سیِّدُناابوبکر، حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظم(اورحضرت سیِّدُناعثمانِ غنی وحضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی)رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنےجوطریقہ جاری فرمایاوہی دین ہے،ہم اسی کواختیار کرتے ہیں،یہی ہماری اِنتہا ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہےاسے ہم مُؤ َخَّررکھتے ہیں۔
رحمَتِ خداوندی کی طلب:
(7296)…حضرتِ سیِّدُنا غالِب قَطَّانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ