(7283)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن ابوولیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کمزوری کےباوجودجمعہ کےدن نکلےاورجس طرح خطبہ دیتےتھےاسی طرح خطبہ دیتےہوئے کہا:اے لوگو!تم میں سے جوبھی نیکی کرے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاشکر ادا کرےاورجو گناہ کرے وہ بارگاہِ الٰہی میں توبہ کرے۔لوگوں پر وہ اعمال بجالانا ضروری ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے ذِمَّہ لازم اور فرض کئےہیں۔
طلَبِ رزق میں میانہ روی:
(7284)…حضرتِ سیِّدُناعدی بن فَضْلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کویہ خطبہ دیتےہوئےسنا:اےلوگو!اللہ عَزَّ وَجَلَّسےڈرواوررزق کی طلب میں میانہ روی اختیار کروکہ اگر تمہارارزق پہاڑ کی چوٹی یا زمین کے اندربھی ہوگا تو بھی تم تک پہنچ جائےگا۔
سب سے افضل عبادت:
(7285)…حضرتِ سیِّدُناعلی بن زیدبن جُدعان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتےہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکومقامِ خُناصِرہ میں خطبہ دیتے ہوئےیہ فرماتےسنا:سنو!فرائض کی ادائیگی اورحرام چیزوں سے بچنا سب سے افضل عبادت ہے۔
(7286)…حضرتِ سیِّدُنابَحْدَل شامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیبیان کرتےہیں:میرےوالدماجدحضرتِ سیِّدُناعُمربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےدوست تھے،انہوں نےمجھےبتایاکہ میں نےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو منبر پر یہ آیت تلاوت کرتےسنا:
وَنَضَعُ الْمَوٰزِیۡنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْـًٔا ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیۡنَابِہَا ؕ وَکَفٰی بِنَا حٰسِبِیۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۱۷،الانبیآء:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اورہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن توکسی جان پرکچھ ظلم نہ ہوگااوراگرکوئی چیز رائی کےدانہ کےبرابرہوتوہم اسےلےآئیں گےاورہم کافی ہیں حساب کو۔
اس کے بعدوہ (غشی کے سبب)ایک طرف جُھک گئے اور گرنے کے قریب ہوگئے ۔