میں آرزو کرتا کہ اس کی ابتدا مجھ سے اور میرے خاص لوگوں سے ہو حتّٰی کہ ہمارا اور عام لوگوں کا جینا ایک جیسا ہو جائے۔خداعَزَّ وَجَلَّکی قسم !اگر میں اس کے علاوہ کسی اور چیز یعنی عیش و عشرت کا ارادہ کرتاتواپنی زبان کو جھکائے رکھتا اورعیش و عشرت کے اسباب مجھے خوب معلوم ہیں لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کتاب بھیج دی اور انصاف کا راستہ بتادیا جو اس مُعامَلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کا حکم دیتا اور اس کی نافرمانی سے منع کرتاہے پھر آپ چادر کے دامن کو اپنے چہرے پر رکھ کر روتے رہے حتّٰی کہ آپ پر غشی طاری ہو گئی اور آپ کے اردگردموجود لوگ بھی رونے لگے۔
مخلوق کی اطاعت میں خدا کی نافرمانی جائز نہیں:
(7281)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن یزیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتےہیں کہ ایک دن حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے خطبہ دیا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی شان کے لائق حمدوثناکرنےکے بعدفرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرتِ سیِّدُنامحمدمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعدکوئی نبی نہیں بھیجے گااور ان پر جو کتاب نازل فرمائی اس کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں فرمائے گا۔یادرکھو!اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جو کچھ ہمارے نبی حضرت محمدمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرنازل فرمایا ہے وہ قیامت تک حق و سچ ہے۔سن لو!میں بدعتی نہیں بلکہ سنت کاپیروکار ہوں اور میں تم سے بہتر نہیں ہوں لیکن مجھ پر تم سے بڑابوجھ ہے۔سنو!(خلیفہ کی ) اطاعت وفرمانبرداری ہر مسلمان پر اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کاحکم نہ دے اورجو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کا حکم کرےتومخلوق کی اطاعت کےلئےخالق کی نافرمانی جائزنہیں۔پھرتین بار خودکومخاطَب کرکےفرمایا:خبردار! کیاتم نے نہیں سنا۔
گناہوں پر ڈٹے رہنا ہلاکت ہے:
(7282)…حضرتِ سیِّدُنارَجابن حَیْوَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ ایک دن حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےخطبہ دیتےوقت فرمایا:اےلوگو!جوگناہ کربیٹھےوہ بارگاہِ خداوندی میں تَوبہ و اِسْتِغْفارکرےاور اگر دوبارہ گناہ سرزد ہوجائے پھر توبہ واستغفارکرے اور اگر پھر گناہ ہوجائے تو پھر توبہ و اِسْتِغْفارکرے کیونکہ گناہ انسان کے گلے میں طوق بنا دیئےجاتےہیں اور مکمل ہلاکت گناہوں پر ڈٹےرہنا ہے۔