عَزَّ وَجَلَّ کا فیصلہ،قرآن کا حکم اور انصاف کا راستہ ہے جو اس معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کا حکم دیتا اور اس کی نافرمانی سے منع کرتاہےپھر آپ چادر کے دامن کو اپنے چہرے پر رکھ کر روتے رہے حتّٰی کہ آپ پر غشی طاری ہو گئی اور آپ کے اردگرد لوگ بھی رونے لگے پھرمنبر سے اتر آئے، یہ وہ خطبہ تھاجس کےبعدآپ نے خطبہ نہیں دیا حتّٰی کہ آپ کا انتقال ہو گیا،آپ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہو۔
نصیحت آموز آخری خطبہ:
(7280)…حضرتِ سیِّدُنایعقوب بن عبْدُالرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاناپنےوالدماجدسےنقل کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےاپنےآخری خطبہ میں حمدوثناکےبعدفرمایا:اےلوگو!تمہیں نہ بےکار پیداکیاگیاہےنہ آزادچھوڑاگیاہے،تمہارےلئےوعدےکادن مُقَرَّرہےجس میںاللہعَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان فیصلےکے لئے تمہیں جمع کرے گا اور وہی شخص نامراداور بدبخت ہوگا جو رحمَتِ الٰہی سےاوراس جنت سےمحروم رہاجس کی چوڑائی میں سب زمین وآسمان آجائیں۔کیاتم نہیں جانتےکہ کل بروز ِقیامت امان اسی کےلئے ہو گی جس نے دنیا میں خوف خدا رکھا اور تقوٰی اختیار کیااور وہی شخص امن میں ہوگا جس نے فانی کے بدلے باقی کو اوردنیاکےبدلےآخرت کواختیارکیااورامن کےبدلےخوف کواپنایا۔کیاتمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ تمہارے پاس مُردوں کا مال ہے جو عنقریب تمہاری موت کے بعد تمہارے بعد والوں کا ہو جائے گا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا حتّٰی کہ تم سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤگے۔تم صبح و شام کسی نہ کسی کا جنازہ لے کر جاتے ہوجس کا وقت اور زندگی کی مدت پوری ہو چکی ہوتی ہے پھر تم اسے زمین کے گھڑے میں دفن کردیتے ہوجہاں بچھونا ہوتا ہے نہ تکیہ۔اس کے دوست اَحباب اوردنیاوی سامان اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔مٹی اس کا ٹھکانا جبکہ حساب وکتاب کا اسے سامنا ہوتا ہےاور اپنے عمل کے بدلے وہ گِروی ہوتا ہے۔ جو کچھ اُس نے آگے بھیجاہوتا ہے اُسے اِس کی محتاجی ہوتی ہےاور جو چھوڑ گیا وہ اس کے کسی کام کا نہیں ہوتا،لہٰذا تم موت آنے اوردنیاچھوڑنے سے پہلےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو۔بخدا!میں تمہیں نصیحت کررہاہوں حالانکہ میں تم میں سب سے زیادہ گناہ گار ہوں۔میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے گناہوں کی بخشش چاہتا اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔
اے لوگو! جب بھی مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم میں سے کسی کو کوئی حاجت ہے جو ہمارے پاس موجود ہے تو