خٰلِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیۡثُ نَشَآءُ ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیۡنَ ﴿۷۴﴾وَ تَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیۡنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِرَبِّہِمْ ۚوَقُضِیَبَیۡنَہُمۡ بِالْحَقِّ وَ قِیۡلَ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۵﴾٪(پ۲۴،الزم:۷۳ تا ۷۵)
گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہےتو جنّت میں جاؤ ہمیشہ رہنےاور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہکو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں کا اور تم فرشتوں کو دیکھو گے عرش کے آس پاس حلقہ کئے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ ا س کی پاکی بولتے اور لوگوں میں سچّا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب خوبیاں اللہکوجو سارے جہان کا رب ۔
کون سی نعمت دخولِ جنت سے افضل ہوسکتی ہے ؟
شہد کی قیمت بیت المال میں جمع کرادی:
(7275)… حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن یحییٰ غَسَّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز ڈاک خانے کا اِستعمال صرف مسلمانوں کی ضرورت والے کاموں میں کرتے تھے۔ آپ نے اپنے ایک گورنر کوخط لکھا:میرے لئے شہد خریدومگر اس کے لئےوقف کی کوئی شے استعمال نہ کرنا۔ گورنرنےوہ شہدڈاک خانےکی سواری کےذریعےبھیجوایا،جب شہدپہنچاتوآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پوچھا: گورنر نے یہ شہد کس پر بھجوایا ہے؟ لوگوں نے کہا:ڈاک کی سواری کے ذریعہ آیا ہے۔آپ نے اسے بیچنے کا حکم دیا اوراس کی قیمت بیْتُ المال میں جمع کرادی اور گورنرسے کہا:تم نے ہم پر اپنا شہد خراب کردیا۔
(7276)…حضرتِ سیِّدُناخالدبن ابوصَلْترَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےپاس حُکومتی کوئلے سے گرم کیاہوا پانی لایا گیا تو آپ نے ناپسندجانااوراس سے وُضو نہ فرمایا۔
حکومتی عملے کو تحائف سے منع فرمادیا:
(7277)…حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مِہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کوسیب اورپھل بطورِتحفہ بھیجےگئےلیکن آپ نےواپس لوٹادیئےاورفرمایا: میرے علم میں