Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
382 - 531
شاق نہیں گزرتا جس کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے بعد والوں کے لئے حق کو زندہ فرماتا ہے۔ اگر مجھے اس بات کی فکر نہ ہوتی کہ میں تمہیں مَناسِکِ حج  سے غافل کروں گاتو میں تمہارے لئے اُن اُمُور کا فرمان جاری کرتاجن سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے لئے حق کوزندہ فرماتا اور تم سے باطل کومٹاتا۔ اسی کے شایانِ شان ہے کہ تم اس کےسواکسی کی تعریف  نہ کرو اوراگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے میرے نفس کے حوالے کر دیتا تو میں  بھی دیگر  حکمرانوں کی طرح ہوتا۔وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ
نعمت کے مقابلے میں شکرِ نعمت افضل ہے:
(7274)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن یحییٰ غَسَّانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں کہ کسی گورنرنےحضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کوخط لکھا:”اےامیرالمؤمنین!میں ایسےعلاقےمیں ہوں جہاں کثیرنعمتیں  ہیں حتّٰی کہ میرے آنے سے پہلے جو لوگ یہاں موجود ہیں میں اُن پر مہربانی کرتے ہوئے  دُگناشکر ادا کرتا ہوں۔“آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواب لکھا:میں تمہارے بارے میں یہی گمان رکھتا ہوں  کہ تم اپنی  حالت سے زیادہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مَعْرِفَت رکھتے ہو۔ بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے پر انعام فرماتا ہے اور وہ بندہ اس نعمت کی وجہ سےاللہ عَزَّ  وَجَلَّکا شکر کرتا ہے تو یہ شکرِنعمت اس ملنے والی نعمت سے افضل ہوتا ہےاور تم اس بات کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نازل کردہ کتاب سے جان سکتے ہوجیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَقَدْ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ وَسُلَیۡمٰنَ عِلْمًا ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۵﴾ (پ۱۹،النمل:۱۵)	
ترجمۂ کنز الایمان:اوربےشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا اور دونوں نے کہا سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی۔
	کون سی نعمت اس سے بڑھ کر ہے جو حضرتِ سیِّدُناداوداورحضرتِ سیِّدُناسلیمان عَلَیْہِمَا السَّلَامکو عطا کی گئی؟ اور ارشاد فرماتا ہے:
وَسِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتْ اَبْوٰبُہَا وَ قَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوۡہَا
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے اُن کی سواریاں گروہ گروہ جنّت کی طرف چلائی جائیں گی یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کُھلے ہوں