Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
380 - 531
 باندھوورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گےاور تم شیطان کے فرمانبردار بن جاؤ گے۔بخدا!جسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ شام کےبعدصبح یا صبح  کےبعدشام کرےگایا نہیں تو وہ لمبی امیدوں میں مبتلا نہیں ہوسکتا کیونکہ کبھی موت ان دووقتوں کے درمیان بھی آجاتی ہےاورمیں اور تم ایسے کئی لوگوں کو دیکھ چکے جو دنیا کے دھوکے میں مبتلا ہوئے۔ یادرکھو!آنکھیں  صرف  اس شخص  کی ٹھنڈی  ہوں گی  جسے عذاب الٰہی  سے بچ جانے پر یقین ہوگااوروہی خوش ہوگاجو قیامت کی ہولناکیوں سےمحفوظ رہےگا۔وہ شخص کیسےخوش ہو سکتا ہے جو ایک زخم کاعلاج نہ کرسکاکہ دوسرا لگ گیا۔میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی پناہ چاہتا ہوں ایسی بات سےکہ تمہیں اس کا حکم دوں جس  سےخودکونہ روک سکوں کہ یوں میرا سودا خسارے والااورمیرا دھوکاعِیاں ہوجائے گا پھر میری محتاجی اس دن نمایاں ہوگی جس دن مال داری اورمحتاجی دونوں ظاہر ہوں گےاورمیزان رکھے جائیں گے۔ تم  لوگ ایسے معاملے میں پھنس چکے ہوکہ اگر انہیں ستاروں کے جُھرمٹ میں رکھا جاتا تو وہ بکھر جاتے اوراگرپہاڑوں پر پیش کیا جاتا تو وہ پگھل جاتےاوراگر زمین پر پھیلایاجاتاتووہ پھٹ جاتی۔کیا تم نہیں جانتےکہ جنت اوردوزخ کےعلاوہ کوئی  تیسریجگہنہیں ہےاورتم  ان دونوں میں سےکسی ایک کی جانب جاؤگے۔
دنیاخوشی کم اورغم زیادہ دیتی ہے:
(7270)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن محمدمکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےخطبہ دیتے ہوئےفرمایا:دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے ،اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اس کا فنا ہونا لکھ دیا ہے اور اس کے مکینوں کا یہاں سے روانہ ہونا مُقَدَّرفرمادیا ہے۔کتنی ہی مضبوط آبادیاں تھوڑے عرصے میں بربادہوجاتی ہیں اورکتنےہی خوش حال لوگ یہاں سےکوچ کرجاتےہیں۔اللہعَزَّ  وَجَلَّتم پررحم کرے! دنیا سےجوبھی اچھا سامان سفر میسر آئے ساتھ لے لو اورزادِراہ اکٹھاکرلو،بےشک بہترین زادِراہ تقوٰی ہے۔ دنیاایک  سائے کی طرح ہےجومسلسل پیچھے ہٹ رہاہوتاہےجبکہ انسان اُسے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک سمجھتے ہوئے اُس کے پیچھے بھاگتاہےکہ اچانک تقدیر ِالٰہی سےموت کاپروانہ جاری ہوتااور موت سامنے آکر کھڑی ہوجاتی ہے اور یوں اس کا عیش وعشرت اور سازوسامان چھین کر اُس کےوُرَثاکےسِپُردکردیا جاتا ہے ۔یاد رکھو!دنیا اتنی خوشی نہیں دیتی جتنا نقصان پہنچاتی ہے ،بے شک وہ خوشی کم اور غم زیادہ دیتی ہے ۔