Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
379 - 531
بلکہ مجھے اس شخص کی حالت پر تعجب ہے جس کے قدموں کے نیچے دنیا تھی اوراُس نے اسے پامال کرکے راہبانہ زندگی اختیار کی۔
سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَہکاتقوٰی:
(7267)…حضرتِ سیِّدُناحکیم بن عُمَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز کےپاس  موجودتھاکہ آپ نے غلام کوگوشت کے ٹکڑے بھوننے کے لئےدیئے۔وہ جلد ہی بھون کرلے آیا توآپ نے  پوچھا:تم نے اتنی جلدی کیسے بھون لئے؟اس نے کہا:میں نے اسے  باورچی خانے  کی آگ میں بھونا ہے۔ وہ باورچی خانہ چونکہ بیْتُ المال کا تھا جہاں  مسلمانوں  کے لئے صبح وشام کا کھانا بنتاتھالہٰذاآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  غلام سےفرمایا:بیٹا!یہ  تم کھالوکیونکہ   یہ تمہارارزق ہے،میرا نہیں۔
اُونی جُبّہ اور طوق پہنے  مناجات:
(7268)…حضرتِ سیِّدُنا عبْدُالرحمٰن بن زیدبن اَسْلَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس ایک ٹوکری تھی جس میں آپ اُونی جُبّہ اورطوق  رکھتے تھےاور آپ  کے لئے گھر کے اندر ایک مخصوص کمرہ  تھاجہاں آپ نماز پڑھاکرتے تھے،آپ کے علاوہ اس کمرے میں کوئی داخل نہیں ہوتاتھا۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہرات کےآخری حصےمیں ٹوکری سےجُبّہ نکال کر پہن لیتےاورطَوق گردن میں ڈال  لیتے اوربارگاہ خداوندی  میں مناجات و گریہ وزاری میں مشغول رہتے، طلوعِ فجر تک  یہ سلسلہ جاری رہتا پھر جبہ اورطوق   اسی ٹوکری  میں رکھ دیتے ۔  
نصیحت آمیز خطبہ:
(7269)…حضرتِ سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےایک صاحبزادےکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےخطبہ دیتےہوئےفرمایا:ہرسفرکےلئے زادِراہ ضروری ہےلہٰذاتم دنیاسے آخرت کی طرف سفرکےلئےتقوٰی کوزادِراہ بناؤاوراس شخص کی طرح ہوجاؤجواللہ عَزَّ  وَجَلَّکےتیارکئے ہوئے ثواب و عذاب  کودیکھ چکا ہےکہ ثواب میں رغبت رکھو اور عذاب سے ڈرو اورہرگزلمبی امیدیں نہ