Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
378 - 531
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:جویہ نہیں جانتا کہ اس کی گفتگو بھی اعمال کاحصہ ہے تواس کے گناہ بڑھتےچلے جاتے  ہیں ۔
(7263)…حضرتِ سیِّدُنا ہِشام بن عبدُاللہبن عِکرِمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:میں نےجس حق بات کاارادہ کیالوگوں نےاس میں میرا ساتھ اس وقت تک نہ دیا  جب تک  کہ میں نے انہیں کوئی دنیاوی  چیز نہ دی۔
کامیاب شخص:
(7264)…حضرتِ سیِّدُنااماممَعْمَرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتےہیں:جوشخص   جھگڑا،غصہ اور طَمَع   سے محفوظ رہاوہ کامیاب رہا۔
(7265)… حضرتِ سیِّدُنااماممَعْمَرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے(بصرہ کےگورنر)حضرتِ سیِّدُناعدی بن اَرْطَاَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو یہ خط لکھا:عُمان پرسعد بن مسعود کو حاکم مقررکرنا تمہاری وہ غلطی ہےجس کااللہ عَزَّ  وَجَلَّتمہارےلئے فیصلہ فرماچکاہےاورتقدیر میں لکھ دیا ہے کہ تمہیں اس  میں  مبتلاکیاجائے گا۔
شاہِ روم کا رنج وغم:
(7266)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن مَعْبَدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدبیان کرتے  ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےرومی قیدیوں کومسلمان  قیدیوں کےفدیہ میں آزادی دےکر روم  بھیجا۔میں (وہاں پہنچ کر)جب بھی شاہِ روم کے  پاس جانا چاہتاکوئی نہ کوئی  رومی رئیس اس کے پاس آجاتا،میں پھر واپس  لوٹ آتا۔ ایک دن میں اس تک  پہنچنے میں کامیاب ہو گیا،اندرداخل ہوا تو بادشاہ کو رنج وغم کی حالت میں زمین پربیٹھے دیکھ کرپوچھا:بادشاہ کو کیا ہوا؟کہا:تمہیں  نہیں  معلوم کہ کیاہواہے؟میں نےکہا:کیاہواہے؟کہا:ایک  نیک شخص  کی وفات ہوگئی ہے۔میں نے پوچھا:کون ؟کہا:عُمَربن عبْدُالعزیز۔پھر کہا:میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضرتِ سیِّدُناعیسٰیرُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَامکےبعداگرکوئی مُردےزندہ کرتاتووہ عُمَربن عبْدُالعزیزہوتے۔مجھےاُس راہِب کی حالت پر کوئی تعجب نہیں جس نے اپنے دروازے کو بند کرکے دنیا کو چھوڑ دیا اور عبادت میں مشغول ہوگیا