Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
377 - 531
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزسےپہلی بارجوسب سےعجیب بات دیکھی گئی وہ یہ تھی کہ آپ ایک جنازے میں تشریف لائےتوایک چادرلاکرآپ کےلئےبچھائی گئی جوگزشتہ خُلَفاکےلئےجنازوں کےموقع پران کےبیٹھنے کےلئے بچھائی جاتی تھی،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاسےپاؤں سےہٹاکرنظراندازکردیااورزمین پربیٹھ گئے۔لوگ کہنےلگے:حضرت!یہ کیا؟اتنے میں ایک شخص آیا اورآپ کے سامنے  کھڑے ہو کر عرض کرنے لگا:میں  بہت حاجت مند اور فاقہ کَش ہوں،کل بروزِ قیامتاللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ سے  میری  اس  حالت کے بارے میں  پوچھے گا۔اس وقت آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےہاتھوں میں ایک تلوارتھی جس سےسہارا لئے ہوئے تھے۔آپ نے اسےکہا: اپنی بات دھراؤ۔اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ اس قدرروئےکہ آنسوتلوارپر بہنےلگےپھر پوچھا:تمہارے اَہل وعیال کی تعدادکتنی  ہے؟اس  نے کہا:ہم پانچ اَفراد ہیں، میں،میری بیوی اورتین بچے۔ آپ نے فرمایا:تمہارےلئے10دیناروظیفہ مُقَررہےالبتہ ابھی ہم تمہیں500دیناردیتے ہیں جس میں200 میری جیب سےاور300بیْتُ المال    سےہیں،تم اس  پر اِکتفا کرتے رہنایہاں تک کہ تمہیں تمہارا وظیفہ ملے۔  
ایک یاآدھےدن کی بُری صحبت:
(7260)…حضرتِ سیِّدُنا جَعْوَنہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےایک شخص کوگورنر بنایا،جب انہیں خبر ملی کہ یہ حجاج بن یوسُف کے دورمیں بھی گورنر رہ چکا ہے تو اسے عہدے سے ہٹادیا۔وہ  معزول  گورنر  آپ کی  بارگاہ میں  آیااور یہ عُذر پیش کرنے لگا کہ میں نے حجاج کے  دور میں بہت قلیل مدت گورنری کی ہے۔آپ نےفرمایا:ایک یاآدھےدن کی بُری صحبت بھی تمہارے لئے بہت ہے۔
بےوقوفی اورہلاکت:
(7261)…حضرتِ سیِّدُناابوعاصم عَبَّادانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سےمروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےخطبہ دیتےہوئےفرمایا:اگرتم آخرت پرایمان رکھوتو(اُخروی عمل نہ کرنے کے سبب)بے وقوف کہلاؤ گے اور اگر جھٹلاؤ گے  تو ہلاک ہوجاؤ گے۔
گفتگو بھی اعمال کاحصہ ہے:
(7262)…حضرتِ سیِّدُناسُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز