(7255)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن یحییٰ غَسَّانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں کہ ایک بارحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز اورخلیفہ سلیمان بن عبْدُالملِک میدانِ عرفات میں تھےکہ اچانک زبردست گرج کے ساتھ بجلی چمکی جسے دیکھ سلیمان بن عبْدُالملک گھبراگیا،اس نےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکومسکراتےدیکھاتو کہا:اےعُمَر!تم مسکرا رہےہو؟کیاتم نےیہ آوازنہیں سنی؟آپ نےفرمایا:اےخلیفہ!یہ رحمَتِ الٰہی کے نزول کاوقت ہےجس سے آپ گھبرا گئے ہیں،ذرا سوچئے!اگر آپ پر اس کاعذاب نازل ہواتوکیاحال ہوگا؟
(7256)… حضرتِ سیِّدُناعَفَّان بن راشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدسےمروی روایت میں ہےکہ جب سلیمان بن عبْدُالملِک نےگرج چمک سنی تو گھبرا کر سواری سےچمٹ گیا۔حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےفرمایا:اےخلیفہ!یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت برسنےکاوقت ہے،ذرا سوچئے!اگر آپ پر اس کاعذاب نازل ہوا تواس وقت آپ کاکیا حال ہوگا؟سلیمان نےلوگوں کی طرف دیکھ کرپوچھا:یہ اتنے سارے لوگ کون ہیں؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:اےخلیفہ!یہ سب آپ کےخصم(مخالف)ہیں۔سلیمان نےکہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں ان کی آزمائش میں مبتلاکرے۔
ہر فرد کا حق ادا کرنے کی خواہش:
(7257)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن ذَرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَرکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز سلیمان بن عبْدُالملک کے جنازے سےواپس آئے توغلام نے پوچھا:آقا!آپ غمگین لگ رہے ہیں؟فرمایا: جس آزمائش کا مجھے سامنا ہے اس میں غمگین ہی ہوناہے۔میں چاہتاہوں کہ مشرق سے مغرب تک اُمَّتِ محمدیہ کے ہر فرد کاحق اداکردوں،انہیں مجھے خط لکھنے اور مجھ سے کچھ طلب کرنےکی بھی ضرورت پیش نہ آئے۔
(7258)…حضرتِ سیِّدُنا نَضَربن عَرَبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے پاس گیاتوآپ کودونوں گھٹنےکھڑےکرکےہاتھوں اورٹھوڑی کوان پررکھےبیٹھےدیکھا گویاایسالگ رہاتھاکہ انہیں اس امت کی ناقابلِ برداشت تکلیف ہے۔
ایک فاقہ کش کی داد رسی:
(7259)…حضرتِ سیِّدُناعامِربن عُبَیْدَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز