Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
373 - 531
سیِّدُناعُمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا کام تمہارے زمانے سے بہت مختلف تھا،اگرتم ان کے نقشِ قدم پر چلو تو مجھے امید ہے کہ اللہ ربُّ العِزت تمہیں بھی خُلَفا میں ان جیسا بلند رُتبہ عطا  فرمائے گا ۔تم  اس طرح کہو جیسےحضرت سیِّدُناشعیب عَلَیْہِ السَّلَام کامقولہ ہے:
وَمَاۤ اُرِیۡدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ اِلٰی مَاۤ اَنْہٰکُمْ عَنْہُ ؕ اِنْ اُرِیۡدُ اِلَّا الۡاِصْلٰحَ مَا اسْتَطَعْتُ ؕ وَ مَا تَوْفِیۡقِیۡۤ اِلَّا بِاللہِ ؕعَلَیۡہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیۡہِ اُنِیۡبُ ﴿۸۸﴾ (پ۱۲،ھود:۸۸)	
ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کا خِلاف کرنے لگوں میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں ۔
	وَالسَّلَامُ عَلَیْکُم۔
	ایک روایت میں یہ ہے:حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےحضرتِ سیِّدُناسالِم بن عبداللہ بن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکوخط لکھاکہ ”مجھے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کچھ  تحریریں بھیج دیجئے۔“چنانچہ آپ نے لکھا:”اےعُمَر!اُن  بادشاہوں کویاد کرو جن کی آنکھیں  پھٹ چکی ہیں اوراسی طرح کی کچھ باتیں مختصراً   لکھ  بھیجیں۔“
گورنر کوفہ کو نصیحت بھرا خط:
(7244)…حضرتِ سیِّدُناداؤدبن سلیمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےگورنر ِکوفہ حضرتِ سیِّدُناعبْدُالحمیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدکویہ لکھا:بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یہ خط اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندے امیرالمؤمنین عُمَر کی جانب سے عبْدُالحمیدبن عبْدُالرحمٰن کی طرف  ہے:
	اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم!میں تمہارےساتھاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی حمدوثناکرتاہوں جس کےسواکوئی معبودنہیں۔کوفہ  میں رہنےوالوں کواَحکامِ الٰہی  کےسلسلے  میں سخت زیادتی اورظلم وستم میں مبتلاکیاگیا اور نااہل  گورنروں نے  ان پر بہت سے بُرے طریقےجاری کئے۔بے شک دین کی تقویت  عَدْل واِحسان   پر منحصر ہےاورتمہارے لئے اس سے بہتر اور اہم کوئی چیز نہیں ہوسکتی کہ تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت کواپناؤ کہ اس میں کوئی گناہ نہیں۔ یہ