وَ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ ﴿۸۸﴾٪ (پ۲۰،القصص:۸۸) حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے۔
بلا شبہ دنیا والے دنیا کی کسی چیز پر ذاتی قدرت نہیں رکھتےحتّٰی کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ دیں گے اور یہ ان کو چھوڑ دے گی اور یہ بات سمجھانےکےلئےاللہ عَزَّ وَجَلَّنےقرآنِ کریم نازل فرمایا،انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کومبعوث فرمایا،قرآنِ کریم میں جزا وسزا کو بیان فرمایا، مثالیں اور دیگر مفید باتیں بیان کیں اور اپنے دین کی وضاحت اس میں بیان فرمادی،اسی میں حلال وحرام کو بیان کیااور بہترین اندازمیں قَوموں کے قصے اور واقعات بھی اس میں بیان فرمائے۔اگلوں اور پچھلوں کےلئےاپنا ایک ہی دین مُقَرَّر کیا اور اپنی کتابوں میں کوئی فرق رکھا نہ اپنے رسولوں میں کوئی اختلاف رکھا۔کوئی ایسے معاملے کی وجہ سے بدبخت نہیں ہوتاجس کے سبب دوسراخوش بخت ہوگیا اور نہ کوئی اُس معاملےکی وجہ سے خوش بخت ہوتا ہے جس کے سبب کوئی دوسرا بدبخت ہوگیا۔اے عُمَر بن عبْدُالعزیز! آج تم خودکوایک عام انسان شمارکیوں نہیں کروگے،تمہیں بھی اتنا ہی کھانا پینااور لباس کافی ہےجتنا کہ ایک عام آدمی کو کافی ہے،تم اپنے زائدمال کواپنے اوراُس رب کے درمیان ذخیرہ کرلوجس کاتم ہمیشہ شکر اداکرتے ہو۔تمہیں ایک بڑی ذمہ داری ملی ہے جس میں اللہ ربّ العِزت کے سواکوئی تمہارا مددگار نہیں۔وہی ہے جس نے تمہارے اور مخلوق کے درمیان وُسعت رکھی کہ اگرتم خود کو اور اپنے گھر والوں کو فائدہ پہنچاسکو تو پہنچا لو اور اگرخود کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے سے بچا سکو تو بچالواور برائی سے بچنے کی تَوفیق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے۔ جو لوگ تم سے پہلے گزرےانہوں نےجوکرناتھاوہ کرکے چلے گئے،انہوں نےطرح طرح سے حق کومٹایااورقِسم قِسم کے باطل کوپھیلایاپھر بعد میں پیدا ہونے والے لوگ اسی ماحول میں پلے بڑھے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہی دُرُست راہ ہے۔انہوں نے لوگوں سے نرمی کا برتاؤ نہ رکھا بلکہ ان پر پریشانیوں کے دروازے کھولے رکھے۔اگر آپ ان پر آسانیاں پیدا کرنے پر قادر ہوگئے ہیں تو جب بھی ان کے لئے کوئی آسانی کی راہ نکالیں گےاس کی وجہ سے آپ پر مصیبت کا ایک باب بند ہو جائے گا۔کسی گورنر کو اُس کے منصب سے ہٹانے کے لئےتمہارا یہ قول رکاوٹ نہ بنےکہ میرےپاس ایساکوئی نہیں جس کےکام سےمیں مطمئن ہوسکوں کیونکہ جب تماللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کےلئے کسی کوہٹاؤگے اور اسی کے لئے کام کرو گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں ایسےلوگ عطافرمائے گا جو اس کی مدد