سیرتِ فاروقی اپنانے کا عزم :
(43-7242)…حضرتِ سیِّدُناموسٰی بن عُقْبَہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناسالِم بن عبداللہ بن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکوامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےایک خط لکھا جس کامضمون یہ تھا:”یہ خط اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے امیرالمؤمنین عُمر کی جانب سے سالِم بن عبداللہ کی طرف ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم!میں تمہارے ساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمدوثناکرتاہوں جس کےسواکوئی معبودنہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے خلافت کی ذِمَّہ داری میرے کاندھوں پر ڈالی ہے اور میرے مشورے اور طلب کےبغیر ہی اُمورِ خلافت میرے سپرد کر دیئے گئے،بس تقدیرِ الٰہی سے مجھے خلافت کی ذمہ داری ملی ہے۔میں اُمورِ خلافت میں اسی کریم ذات سے مدد طلب کرتا ہوں جس نے میرے کاندھوں پر یہ ذمہ داری ڈالی ہےاور اُس سے یہ سُوال کرتا ہوں کہ وہ رعایا کومیری اطاعت وفرمانبرداری اور اچھی مُعاوَنَت کی توفیق بخشے اور مجھےاِن پر شفقت ونرمی اور عدل کی تو فیق مرحمت فرمائے۔ جب آپ کے پاس میری یہ تحریر پہنچے تو مجھے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمر بن خَطَّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے خطوط ،ان کی سیرت اور مسلمانوں اور ذِمِّیوں کے بارے میں ان کے کئے ہوئے فیصلوں کی تفصیل بھیج دیجئےاگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے توفیق دی تو میں ان کی سیرت اورانداز کی پیروی کروں گا۔ وَالسَّلام
حضرتِ سیِّدُنا سالِم بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کی طرف جوابی خط روانہ فرمایاجس کا مضمون یہ تھا:”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِیہ خط سالِم بن عبداللہ کی جانب سےامیرالمؤمنین عُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی طرف ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم!میں تمہارےساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمدوثناکرتاہوں جس کےسواکوئی معبودنہیں۔بےشک جب اس نے چاہادنیاکوپیدافرمادیااوراس نے دنیاکی بہت قلیل مدت رکھی گویا اس کی ابتدا اورانتہا دن کی ایک ساعت ہے۔مزیدیہ کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس دنیا اوراس میں موجودتمام مخلوقات کی فنا کافیصلہ بھی فرمادیا۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ ؕ لَہُ الْحُکْمُ ترجمۂ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے اسی کا