Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
369 - 531
 رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے ان سے کہا:دو باتوں میں سے کسی ایک  بات کواختیار کرلو یا تو اپنا زیوربیْتُ المال میں جمع کروا دویامجھ سے علیحدہ ہوجاؤکیونکہ مجھے تمہارے ساتھ  اس زیور کی موجودگی میں ایک  مکان میں رہنا پسندنہیں۔ انہوں  نےکہا: امیرالمؤمنین! میں اس پر اور اس جیسے کئی زیورات پر آپ کو ترجیح دیتی ہوں۔یہ سُن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے زیورکو بیْتُ المال میں رکھنے کاحکم دیااورآپ کے  وصال کے بعد جب یزید بن عبْدُالملِک خلیفہ  بناتواس  نے(اپنی بہن) فاطمہ بنْتِ عبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاکواُن کا زیورواپس لوٹانا چاہا مگر انہوں نےیہ کہہ کرلینےسےانکارفرمادیاکہ ”مجھےاس کی خواہش نہیں اوریہ کیسےہوسکتاہےکہ جوچیزمیں امیرالمؤمنین کی زندگی میں خوشی سےبیْتُ المال میں جمع کراؤں اوران کی وفات کے بعد واپس لے لوں ؟بخدا!ایسا نہیں ہوسکتا۔“یہ دیکھ کریزید  بن عبْدُالملِک نے اسے  اپنے اہل وعیال میں  تقسیم کردیا۔
محبَّتِ رسول:
(7241)…حضرتِ سیِّدُنااحمدبنعبداللہبن یونُسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہے:میں نےاپنےایک استاد صاحب کو فرماتے سناکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے پاس کسی مُحَرِّر کو لکھنے کے لئے لایا گیا،محررخودتومسلمان تھامگراس کاباپ عیسائی یاکسی اورمذہب سےتعلق رکھتاتھا۔امیرالمؤمنین نےلانے والے سےکہا:تم مہاجرین کی اولاد میں سے کسی کو کیوں نہیں لائے ۔محرر نے کہا:رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےوالدکاکفر(1)توآپ کےلئےمُضِرثابت نہیں ہوا۔آپ نےفرمایا:تونےاِن کومثال بنایا؟اب تو تُو کبھی میرے سامنے نہیں لکھ سکتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہ قول بے ادب کاتب کا ہے جبکہ اہلسنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے والدین مومن ہیں۔ رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشادہے:”میں ہمیشہ پاک مردوں کی پشتوں سے پاک بیبیوں کے پیٹوں میں منتقل ہوتارہا۔“(دلائل النبوة لابی نعیم،الفصل الثانی،ص۲۸،حدیث:۱۵)اس حدیث کواعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن”فتاوی رضویہ“جلد30،صفحہ270پرنقل کرنےکےبعدارشادفرماتےہیں:”توضرورہےکہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکےآبائے کرام طاہرین وامہاتِ کرام طاہرات سب اہل ایمان و توحید ہوں کہ بنَصِّ قرآنِ عظیم کسی کافرو کافرہ کےلیےکرم وطہارت سے حصہ نہیں ۔ “صفحہ299پرموجود کلام کاخلاصہ یہ ہے:”کثیر اکابِرعُلَما کا مذہب یہی  کہ حُضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے والدین کریمین مسلمان ہیں اور آخرت میں ان کی نجات کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔“