عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد نے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّامیرالمؤمنین کو توفیق دے۔
اِحیائے سُنَّت کا عزم:
(7239)…حضرتِ سیِّدُناشعیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:مجھےکسی مُحَدِّث نےبتایاکہ حضرتِ سیِّدُنا عبْدُالملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنےوالدِماجدحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی خدمت میں حاضر ہوئے،مَسْلَمَہ بن عبْدُالملِک بھی وہاں موجود تھا،عرض کی:مجھےاکیلے میں آپ سے کچھ کام ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے بیٹے سےکہا:کوئی راز کی بات ہےکہ تمہارےچچامَسْلَمہ بھی موجود نہ رہیں؟عرض کی:جی ہاں۔یہ سُن کرمَسْلَمہ چلےگئےتوبیٹےنےآپ کےسامنےبیٹھ کرعرض کی:امیرالمؤمنین! کل بروزِ قیامت آپ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو کیا جواب دیں گے جب وہ آپ سے پوچھے گا کہ اے عُمَر!تم نے ایک بدعت دیکھی مگرمٹانے کی کوشش نہیں کی یاایک سنت دیکھی مگراسےجاری نہیں کیا؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پوچھا:اے بیٹے!اس بات پر تمہیں رعایا نے اُبھاراہے یا تم خودکہہ رہے ہو؟عرض کی:بخدا!یہ میری ذاتی رائےہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ جواب دہ ہیں لہٰذا آپ اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:بیٹا!اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے اور تمہیں جزائے خیر عطا کرے،بخدا!مجھے امید ہے کہ تم نیکی کےمُعاملےمیں میرےمددگارہوگے۔اے لخْتِ جگر!تمہاری قوم نےاس امْرِخلافت کومضبوط ومُسْتحکَم بنانے کے لئے بے شمار ظلم وزیادتیاں کی ہیں اور جب میں ان سے جبراً قبضہ کی ہوئی جائیدادوں کی واپسی کےلئے جھگڑتاہوں تومجھے ایسی پھوٹ اور بگاڑ کا خدشہ لگارہتا ہے جس سے خون خرابہ کی نوبت آجائے ۔بخدا!میرے نزدیک دنیاکافناہوجانامیرےسبب کسی کاایک قطرہ خون بہانےسےزیادہ آسان ہے۔کیاتم اس پرراضی نہیں کہ تمہارے والد کی زندگی میں وہ دن بھی آئے جس میں وہ بدعت کو مٹائے اور سنت کو زندہ کرےحتّٰی کہ ہمارے اور ہماری قوم کے مابین اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ فیصلہ فرمادےاوروہی بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔
اَہلیہ کا زیور بیت المال میں:
(7240)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی اہلیہ حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنْتِ عبْدُالملِک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاکےزیور میں ا ن کے والدکادیا ہواایک نایاب قیمتی پتھرتھا۔حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ