میری خواہش ہےجومیں اسے حیلے سے طلب کروں گا ؟بےشک میں سلیمان کے بیٹے کےلئے دل میں اتنی ہی محبت پاتا ہوں جتنی اپنی اولاد کےلئے۔
با اثر افراد کی سفارش ٹھکرادی:
(7238)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی اولادمیں سےکسی کابیان ہےکہ ہشام بن عبدالملک نےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے پاس آکر کہا:امیرالمؤمنین!میں آپ کے پاس اپنی قوم کاقاصِد بن کرآیاہوں اور ان کے دل کی بات آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں ،ان کا کہنا ہےکہ آپ اپنی حکومت میں نئے سرے سے ضرور کام کیجئے لیکن گزشتہ حکمرانواں کے فیصلوں کو برقرار رکھئے کیونکہ ان کاکیااُنہی کےسرہوگا۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:بتاؤ،اگرمجھےایک معاملہ کےحل کےلئےدودستاویزدی جائیں ایک حضرتِ سیِّدُناامیرمُعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ہوجبکہ دوسری عبْدُالملِک کی تومیں کس کےمطابق فیصلہ کرو ں گا؟اس نے کہا: پہلی والی دستاویزپرعمل کریں کہ میں اس کے برابرکسی کونہیں سمجھتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:میںکتابُاللہکوسب سے مُقَدَّم پاتا ہوں اورمیرے ماتحتوں میں سے جو بھی میرے یا مجھ سے اگلےخُلَفاکےبارےمیں کوئی مُعاملہ میرےپاس لاتاہےتومیں اُسےقرآنِ کریم پرپیش کرتا ہوں۔ حضرتِ سیِّدُناسعیدبن خالدبن عَمْرورَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےعرض کی:امیرالمؤمنین!آپ حکومت کےمُعاملے کواپنی رائے کےمطابق حق وانصاف کے ساتھ چلاتے رہئے لیکن گزشتہ حکمرانوں کے اچھے بُرے کاموں کوان کے حال پر چھوڑ دیجئےاور اتناہی آپ کے لئے کافی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاس سے کہا:تمہیں اس خداعَزَّ وَجَلَّکی قسم جس کی طرف تمہیں مَرکرلوٹناہے!بتاؤ، اگر ایک شخص چھوٹے بڑے بچے چھوڑ کر مرجائے اوربڑے چھوٹوں کو دَباکر ان کا مال کھاجائیں پھر چھوٹے تم سے مدد چاہیں تو تم کیا فیصلہ کرو گے؟اس نےکہا: میں ان کےحقوق پورےپورےدلاؤں گا۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:میں نے گزشتہ کئی حکمرانوں کو طاقت اور حکمرانی کے سبب لوگوں کےحق مارتے دیکھااوران کےمُتَّبِعِیْن بھی اسی میں لگےرہےاور جب میں خلیفہ ہوا تو لوگوں نے مجھ سے داد رسی چاہی اور میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ میں کمزوروں کوطاقتوروں اورلاچاروں کوباحَیْثِیْت لوگوں سےحقوق واپس دلاؤں۔یہ سُن کر حضرتِ سیِّدُناسعید بن خالد