Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
366 - 531
کام کا ارادہ کرلیتے  ہیں اسے کرگزرتے  ہیں۔
حکمت عملی سے کام:
(7236)…حضرتِ سیِّدُناجُوَیْرِیَہ بن اَسماءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقنےاپنےوالدِماجدحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزسےعرض کی:اس امْرِخلافت میں فوراً انصاف کےتقاضے پر عمل کرنے  میں آپ کو کون سی چیز مانِع ہے؟خداعَزَّ  وَجَلَّکی قسم! مجھے اس بات کی پَروا نہیں کہ اس کی وجہ سے مجھے اورآپ کو ہانڈیوں میں اُبالاجائے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا: میں  لوگوں کو دُشواری جھیلنے کا عادی بنا رہا ہوں،اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے زندہ رکھا تو میں اسے کر گزروں گا اور اگر جلدی موت آگئی تواللہ عَزَّ  وَجَلَّمیری نیت سےباخبرہے۔اگرمیں اچانک ان لوگوں کےساتھ ایسامعاملہ کروں جو تم کہہ رہے ہو تو لوگ میرے خلاف تلوار اٹھا لیں گے اور ایسے نفع میں کوئی خیرنہیں جو صرف تلوار سے حاصل ہو۔
امیرالمؤمنین کی خلیفہ کےبیٹے سےخیرخواہی:
(7237)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن علی بن مُقَدَّمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ سلیمان  بن عبْدُالملِک کےبیٹےنےحضرتِ سیِّدُنامُزَاحِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےکہا:مجھےامیرالمؤمنین سے کوئی کام ہے۔حضرتِ سیِّدُنا مزاحمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاس کےلئےاجازت طلب کی،اجازت ملنےپراُس نےاندرآکرکہا:امیرالمؤمنین! آپ نے میری زمین وجائیدادکیوں ضبط کی ہے؟فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ !میں کسی کی ایسی زمین ضبط کروں جس میں اس کا اسلامی حق ثابت ہو۔یہ سُن کر اس نے آستین  سےدستاویز نکال کردکھائی۔آپ نے اسے  پڑھنےکےبعدفرمایا:یہ زمین کس کی تھی؟ اس نےکہا:حجاج بن یوسف فاسق کی۔فرمایا:پھرتووہ اس کازیادہ حق دارتھا۔اس نےکہا:یہ زمین بیْتُ المال کےپیسوں کی تھی۔فرمایا:پھرتومسلمان اس کےزیادہ حق دار ہیں۔ اس نے کہا:امیرالمؤمنین!مجھے میری دستاویز واپس دیجئے؟فرمایا:اگرتم خود اس کونہ لاتے تومیں اس کو تم سے طلب  نہ کرتا مگر اب جبکہ تم اسے لے آئے ہو تو میں تمہیں کوئی غلط کام نہیں کرنے دوں گا۔یہ سن کر سلیمان کابیٹا رونے لگاتوحضرتِ سیِّدُنامُزَاحِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےعرض کی:امیرالمؤمنین!سلیمان کایہ بیٹاسب کاپیارا اورہردل عزیزہے،آپ اس کے ساتھ ایساکیوں کررہے ہیں؟فرمایا:اےمُزَاحِم!تجھ پر افسوس ہے۔کیا زمین