Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
365 - 531
حق کے حامی:
(7233)…حضرتِ سیِّدُناامام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز سلیمان بن عبْدُالملِک کےپاس رہتےتھے۔ایک دن آپ نےایک عورت کےحق کے بارے میں سلیمان سے کہا:آپ اِس عورتکواس کاحق کیوں نہیں دیتے۔
(7234)…حضرتِ سیِّدُناطلحہ  بن عبْدُالملک اَیْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ  ایک بار حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز سلیمان بن عبْدُالملک کےپاس آئے۔سلیمان  کا بیٹا ایوب بھی وہاں موجود تھاجو کہ اس وقت ولی عہد تھا اورسلیمان نے اسے اپناجانشین مقرر کیا تھا۔اسی دوران ایک شخص  آیا  اورخلیفہ کے خاندان کی کسی عورت کا حصَّۂ وراثت طلب کرنے لگا۔سلیمان بن عبْدُالملک نےکہا:میرانہیں خیال کہ  زمین وجائیدادمیں عورتوں کاکوئی حق ہے۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےکہا: سُبۡحٰنَ اللہ!قرآن کاحکم کہاں گیا؟سلیمان نے کہا:بیٹا!جاؤ عبْدُالملک بن مروان  کی دستاویزلےکرآؤ جس میں اس نے  اس بارے میں لکھاہے۔حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے کہا:ایسا لگ رہا ہے گویا تم قرآنِ پاک منگوارہے ہو۔ ایوب نے کہا:بخدا!خلیفہ کے پاس کوئی اس طرح کی بات کر ہی رہا ہوتا ہے اوراسےپتابھی نہیں چلتاکہ اس کاسرتَن سےجُداکردیاجاتاہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے مخاطب کرکے فرمایا:جب خلافت تمہارے اورتم جیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہوگی تو کسی شخص کے گردن کٹنے سے اتنا نقصان نہیں ہوگا جتنا تمہارے مَسْنَدِخِلافت پر بیٹھنے سے عام لوگوں کوہوگا۔سلیمان نےاپنے بیٹے سے کہا: خاموش!ابو حَفْص سے تم اس طرح بات کرتے ہو؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:اےخلیفہ!بخدا!اگریہ ہمارے ساتھ  جَہالت کابرتاؤکرے گا تو ہم بھی اسے برداشت نہیں کریں گے۔
(7235)…حضرتِ سیِّدُناابواسماعیل بن حکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیۡمکہتے ہیں:بنومروان کےبعض لوگوں نے حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےپاس مکتوب بھیجاجسےپڑھ کرآپ نےسخت ناراضی کا اظہارکرتےہوئےفرمایا:بخدا!اگر مجھے قتل کااختیارہوتاتومیںاللہعَزَّ  وَجَلَّکی رِضاکےلئےبنومروان کوقتل کر دیتا۔جب بنومروان کویہ خبر ملی  تووہ  خاموش ہوگئے کیونکہ وہ   آپ کی  اِسْتِقامت  سے واقف تھے کہ آپ جس