کرتے؟اس نے کہا:بخدا!میں ضرورعمل کرتا۔ پھر جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز خلیفہ بنے تو خالد بن رَیَّان نے آکردربانی کےفرائض انجام دینا چاہے،اس سےقبل وہ عبْدُالملک اورولید کا دربان رہ چکاتھا۔حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےاسےدیکھااورکہا:خالدتلوارنیچےرکھ دو۔ پھر اس کے خلاف یہ دعا کی:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں نے خالد بن رَیّان کو تیری خاطر عہدے سے ہٹایا ہےتو اسےکبھی بھی عہدے پر فائز نہ فرمانا۔“پھر دیگر دربانوں کودیکھا اور حضرتِ سیِّدُناعَمْرو بن مُہاجراَنصاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیکوبلواکرفرمایا:اےعَمْرو!تم جانتے ہوکہ میرے اور تمہارے درمیان اسلام کےسوا اور کوئی رشتہ نہیں ہے تاہم میں نے تمہیں کثرت سے تلاوتِ قرآن کرتے اور تمہیں لوگوں سے چھپ کرنماز پڑھتے دیکھا ہے اورتم نمازاچھے طریقے سےپڑھتے ہولہٰذا یہ تلوارسنبھالواور میرے دربان بن جاؤ۔
مظلوم کی داد رسی:
(7232)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن یحییٰ غَسَّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتے ہیں:ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزحِمْص کے بازارمیں تھے،ایک شخص دو قِطری چادریں اوڑھےآیا اور کہنے لگا: امیرالمؤمنین! کیا آپ نے یہ اجازت دے رکھی ہے کہ کوئی بھی مظلوم آپ کے پاس آجائے؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا:میں مظلوم ہوں،میں بہت دورسےآپ کی خدمت میں حاضرہواہوں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےپوچھا:تمہارےگھروالےکہاں ہیں؟اس نےکہا:وہ عَدَن کےدوردرازعلاقےمیں ہیں۔فرمایا:بخدا!تمہارے گھر والےعمرکے گھرسےبھی بہت دور ہیں۔یہ کہہ کر آپ اسی جگہ اپنی سواری سے اترے اور اُس سے پوچھا: تم پرکیاظلم ہوا؟اس نے کہا:میری ایک جائیداد ہے جسے ایک غاصب نے چھین کر اس پر قبضہ جمالیا ہے۔ آپ نے فوراً (یمن کےگورنر)حضرتِ سیِّدُناعُروہ بن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدکو خط لکھااورحکم دیا کہ گواہوں کی روشنی میں اس کی بات سنی جائے اور حق ثابت ہوجانےپرجائیدادواپس دلوائی جائےاورخط پرمہربھی لگادی۔ جب وہ شخص جانےلگاتوآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاس سےفرمایا:ٹھہرو!تم ہمارےپاس بہت دورسےآئے ہو، یہ بتاؤ سفرپرکتناخرچہ آیا ہے؟اور تمہارے کپڑےبھی پھٹ گئے ہیں۔اس نے سب کاحساب لگایاجوتقریباً 11 دیناربنے۔آپ نے اسے11دینا ر عطا کئے۔