رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےاپنےایک گورنرکویہ لکھا:امابعد!میں تمہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنےاوراس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتاہوں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےاولیاخوفِ خدا ہی کے ذریعے اس کی ناراضی سے بچے،اسی کے سبب انہیں ولایت کاتاج عطا ہوا، اسی کی برکت سےانہیں انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کی رفاقت ملی،اسی کےسبب ان کے چہرے روشن ہوئےاور اسی کے ذریعے انہوں نے اپنے خالق کی معرفت حاصل کی۔خوفِ خدا ہی دنیاوی فتنوں سےبچنےاوراُخروی مصیبتوں سے نکلنے کا ذریعہ ہے،اللہ تعالیٰ گزرے ہوئے لوگوں کی جن باتوں سے راضی ہوا بعد والوں سےبھی وہی قبول فرمائے گا،گزرے ہوئے لوگوں کے حالات ومعاملات میں بعدوالوں کے لئےعبرت ہے،خداکاقانون سب کے لئے برابراورایک ہے۔ جلدی کرو اس سے پہلےکہ تمہاری سانسیں اکھڑنے لگیں اور تمہیں موت آجائےجیسے تم سے پہلے والوں کو آئی۔تم نے لوگوں کو مرتے دیکھا، انہیں جُداہوتے دیکھا،تم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح موت توبہ کرنے والے کو تَوبہ کرنے، امید والےکواس کی امیدملنےاورحکومت چاہنےوالےکوحکومت ملنےسےپہلےہی آجاتی ہے۔واقعی!موت دنیا سےبے رغبتی اختیار کرنے اور آخرت کی رغبت دلانے میں بہت بڑی نصیحت ہے۔ ہم موت اوراس کے بعد کےشرسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگتے،اس سےاچھی موت اورمرنےکےبعدبھلائی کاسوال کرتےہیں۔تم دنیاوی سامان کی طَلَب میں کسی ایسےقول وفعل کو ہرگزاختیار نہ کرنا جس کے بارے میں تمہیں خوف ہو کہ وہ تمہاری آخرت برباد اور تمہارے دین پرعیب لگادےگا اور ربّعَزَّ وَجَلَّکوتم سے ناراض کردےگا۔ اس بات پریقین رکھناکہ جتنارزق تقدیرمیں لکھا ہے مل کررہے گااورجتنی مدت دنیامیں رہنا ہےتم پوری کرو گےجس میں تمہاری طاقت وقوت کی وجہ سے زیادتی اورکمزوری کی وجہ سےکمی نہیں ہوگی۔اگراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں غریبی عطا کرے تب بھی سوال کرنے سےبچواور ربّعَزَّ وَجَلَّکے فیصلےپرسرجھکالواوراپنے لئے دنیاوی نعمتوں کے بجائے اسلام کی دولت کو غنیمت جانو جس میں کمزوری نہیں اوراسلام میں فانی دنیا کےسونے چاندی سے اِعراض ہے۔
یادرکھو!رضائےالٰہی اورجنت کی تلاش میں رہنےوالےشخص کودنیا میں پہنچنےوالی مصیبت وغربت نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی اورجہنم میں لے جانے والے کام کرنے والے کوملنے والی دنیاوی نعمت اور سکون کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ جنتی لوگوں کو کسی بھی ناپسندیدہ چیز کا سامنا نہ ہوگا جسے وہ دنیا