بات کی پروا نہیں ہوگی کہ اس نے اس کے علاوہ کچھ نہیں کھایا۔اس کے بعد آپ نے فرمایا:پھر ہم کیوں خودکو جہنَّم کی آگ میں ڈالتے ہیں؟مسلمہ کہتے ہیں:جتنی نصیحت مجھے اس بات سے ملی اتنی کسی اورسے نہیں ملی ۔
حَجاج کو بُر ا بھلا کہنے سے روک دیا:
(7226)…حضرتِ سیِّدُنارَباح بن عُبَیْدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہےکہ میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی خدمت میں حاضرتھا،اسی دوران حَجاج بن یوسف کاذکر ہوا،میں نےاس کے بارے میں بدزبانی کی اوراُسے بُرا بھلاکہا توآپ نےفرمایا: اے رَباح !اس بدزبانی کو چھوڑو کیونکہ میں نےسناہےکہ ایک آدمی پر کسی حق تلفی کے سبب ظلم ہوتا ہے پھر وہ ظالِم کو بُرا بھلا کہتا اور اس کی عیب جوئی کرتا رہتا ہےاور اس کے ذریعےاپنا حق پورا کرلیتا ہے حتّٰی کہ پھر اس پرظالِم کاحق ثابت ہوجاتاہے۔
مسلمان سے حُسن ظن رکھو:
(7227)…حضرتِ سیِّدُنا وُہَیْب بن وَرْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےفرمایا:جب تک غالب گمان نہ ہو اپنے دوست سےحُسنِ ظن قائم رکھو۔
(7228)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن حَفْصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں:مجھےحضرتِ سیِّدُناعبْدُالعزیزبن عُمَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بتایاکہ میرے والدِماجدنے مجھےنصیحت کرتےہوئےکہا:بیٹا!جب تم کسی مسلمان سےکچھ سنوتو اسے اُس وقت تک برائی پرمحمول نہ کرو جب تک اچھائی پر محمول کرناممکن ہو۔
(7229)…حضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن عَیَّاشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے ایک گورنر نےآپ کی طرف یہ لکھا کہ’’آپ نے بیْتُ المال کوتنگ کردیا ہے یا اس جیسی کوئی بات لکھی۔‘‘آپ نے(طنزاً)جواب میں لکھا:’’اچھا!بیْتُ المال میں جوکچھ ہےلوگوں میں تقسیم کردو اور (جب اس میں کچھ نہ بچے تو )اسےکُوڑے کَرکٹ سے بھردو۔‘‘
موت کی یاد سےمتعلق نصیحت:
(7230)…حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل بن ابوحبیبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ