Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
360 - 531
سرکشی کی اوردنیا ہی میں اپنی نعمتوں سے نفع اُٹھایا۔ دیکھو!میں تمہیں سمجھارہا  ہوں حالانکہ میں خودبہت غفلت کاشکارہوں اور اپنے بہت سے مُعامَلات میں کمزورہوں لیکن آدمی اگر اپنی اِصلاح اور اپنے ربعَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت میں خود کو کامل بنانے میں لگ جائے اور اس انتظار میں اپنے بھائی کو وعظ ونصیحت کرنا چھوڑ دے تو ایسا کرنے سے لوگ نیکی سے دور ہوجائیں گے،نیکی کی دعوت دینےاور برائی سے منع کرنے کادروازہ بند ہو جائے گا، لوگ حرام کوحلال سمجھنے لگیں گےاورزمین  میں وعظ ونصیحت کرنے والے کم ہوجائیں گے۔
فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۳۶﴾وَ لَہُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ وَ ہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿۳۷﴾(پ۲۵،الجاثیة:۳۶)	
ترجمۂ کنز الایمان:تواللہہی کےلئےسب خوبیاں ہیں آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور سارے جہان کا رب اور اسی کے لیےآسمانوں اور زمین میں بڑائی ہےاوروہی عزّت و حکمت والا ہے۔
(7224)…حضرتِ سیِّدُناتَوبہعَنْبَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ صالح بن عبْدُالرحمٰن نےمجھےسلیمان بن عبْدُالملِک کے پاس  بھیجا۔میں گیاتووہاں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزبھی موجود تھے، میں نےان سےکہا:اگرصالح سےکوئی کام ہےتوبتائیے؟انہوں نےفرمایا:اس سےکہناکہ جوچیزاللہعَزَّ   وَجَلَّ کے نزدیک تمہارے لئے باقی ہے اسے مضبوطی سے تھام لو کیونکہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک باقی  ہے وہ لوگوں کے نزدیک  بھی باقی  ہے اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک باقی   نہیں وہ لوگوں کے نزدیک  بھی باقی نہیں ۔
انوکھی نصیحت آموز گفتگو:
(7225)…مَسْلَمہ بن عبْدُالملِک کہتےہیں:میں نمازِفجرکےبعدحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے پاس ایک کمرے میں آیا جہاں آپ فجر کےبعدتنہا رہتے تھےاور وہاں کوئی آتانہیں تھا۔اچانک ایک  کنیز صَیْحانی کھجوروں سےبھرا تھال لئےآئی جو آپ کوبہت پسندتھیں۔آپ  نے اس میں سےایک مٹھی کھجوریں اُٹھائیں اورمجھ سے فرمایا:مَسلَمہ!اگر کوئی  شخص اتنی مقدارمیں کھجوریں کھائےپھرپانی پی لےکہ کھجورکھاکر پانی  پینامفید ہےتوکیا یہ رات تک اُس کے لئے  کافی ہوں گی؟میں نےلاعلمی کااظہارکیاتوانہوں نےکچھ اور اٹھائیں اور پوچھا:کیا اتنی کافی ہیں؟میں نے کہا:جی ہاں، امیرالمومنین !یہ مقدار اس شخص کے لئے  کافی ہوگی اوراسے اس