Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
36 - 531
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ہرنشہ آور چیز حرام ہے۔“(1)
کمزوروں کے سبب  مددکی جاتی ہے:
(6198)…حضرتِ سیِّدُنا مُصعَب بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خود کو کمزوروں سے فضیلت والا گمان کیا تو حضور نبیِّ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس اُمت کے کمزوروں کی دعاؤں اور اخلاص کے سبب اس اُمت کی مدد فرمائے گا۔“(2)
شام تک فرشتوں کی دعائیں:
(6199)…حضرتِ سیِّدُنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے دن کے ابتدائی حصے میں قرآنِ پاک ختم کیا فرشتے شام تک اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور جس نے دن کے آخری حصے میں قرآنِ پاک ختم کیا فرشتے صبح تک اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں(3)۔“(4)
شانِ علی:
(6200)…حضرتِ سیِّدُنا عُمیرہ بن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے منبر پر کھڑے ہوکر حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید، حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ اور حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور ان کے ساتھ منبر کے گرد بیٹھے12افراد سے قسم لی کہ میں تم سب کواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ ارشادفرماتےسنا ہے:”مَنۡ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب المغازی،باب بعث ابی موسی ومعاذ الی یمن،۳/ ۱۲۱،حدیث:۴۳۴۳
2…نسائی،کتاب الجھاد،باب الاستنصار بالضعیف،ص۵۱۸،حدیث:۳۱۷۵
3…حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:گرمیوں میں صبح کو قرآن مجید ختم کرنا بہتر ہے اور جاڑوں میں اوّل شب کو۔ گرمیوں میں چونکہ دن بڑا ہوتا ہے تو صبح کے ختم کرنے میں استغفار ملائکہ زیادہ ہوگی اور جاڑوں کی راتیں بڑی ہوتی ہیں تو شروع رات میں ختم کرنے سے استغفار زیادہ ہوگی۔(بہارشریعت، حصہ سوم، ۱/ ۵۵۱ ملتقطاً)
4…تفسیرقرطبی،خطبة المصنف،باب مایلزم قاریٔ القراٰن،۱/ ۴۴ بتغیرقلیلم قول ابراھیم التیمی