Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
358 - 531
کامضمون یہ تھا:”تمہاراخط موصول ہوا،تم نے اپنی طرف کےبعض  حکومتی افسران  کی خیانت کا ذکر کیا ہےاور  خیانت کامال بھی ان کے پاس ہے اور اب تم مجھ سے اُن کے بارے میں کھلی چھوٹ چاہتے ہو۔ مجھے تم پر تعجب ہے کہ مخلوق کوسزادینے کے مُعاملے میں مجھ سے مشورہ طلب کرتے ہوگویا میں تمہارے لئے ڈھال ہوں اور میری رضا تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی سے  بچالے گی۔میرا جوابی خط جب تمہیں موصول ہو تو تم ان لوگوں سےپوچھ گچھ کرنااورجوکسی چیزکااقرارکرلےاس سےوہ چیزلےلینااورجوانکارکرےاسےحلف(قسم) لینےکےبعد چھوڑدینا۔میری عمر کی قسم(1)!وہ  خیانت کےساتھ بارگاہِ خداوندی میں حاضرہوجائیں مجھے یہ منظور ہے مگر یہ منظور نہیں کہ  میں ان کے قتل کاالزام لےکربارگاہِ الٰہی میں حاضرہوؤں۔وَالسَّلَام
بیٹے کونصیحت:
(7223)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےکاتب حضرتِ سیِّدُنالیث بنابورُقِیَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں  کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کوجس سال خلافت ملی اسی سال آپ نےمدینہ شریف میں موجوداپنےبیٹےحضرتِ سیِّدُناعبْدُالملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوخط لکھاجس کامضمون یہ تھا:امابعد!میری  ذات کےبعدمیری وصیت ونصیحت کے سب سے زیادہ  حق دارتم  ہو اورمیری طرف سےاس کی ذمہ داری لینے اورحفاظت کرنےکےزیادہ حق داربھی تم ہی ہو۔تمام تعریفیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کےلئےہیں جس نےہم پراپنےلطف وکرم سےبہت احسان فرمایاکہ جس سےہماراامْرِخلافت اچھا اورتشہیر کرنے کا مُعاملہ مکمل ہوا اور وہی بڑھتی ہوئی نعمتوں کا پورا کرنے والا ہے۔ اس کا شکر ادا کرنے کی طاقت ہم اسی سےمانگتے  ہیں اور تم اپنے والداورخودپر  کئےگئےفضْلِ خداوندی کویادکرو پھر ان کاموں میں میری مددکرو جو میری طاقت سےباہرہیں اوران کاموں میں بھی جن کےبارے میں تم سمجھتے ہوکہ اس خلافت کی وجہ سے میں اُنہیں نہیں کرسکتا جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے عطا فرمائی ہےاورتمہیں بھی اس میں حصہ عطا فرمایا ہے۔تم اپنا اور اپنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…”لَعُمْرِی“(یعنی میری عُمْر کی قسم) قسم شرعی نہیں، وہ تو صرف خدا  کے نام کی ہوتی ہے، بلکہ قسم لغوی ہے جیسے رب تعالیٰ فرماتا ہے: وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾(پ۳۰،التین:۱) انجیر اور زیتون کی قسم۔ لہٰذا یہ اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ غیر خدا کی قسم نہ کھاؤ۔(مراٰۃ المناجیح،۴/ ۳۳۷)