نےاپنےبعدنامزدہونےوالےخلیفہ کوخط لکھا:بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِیہ خط امیرالمؤمنین عُمَربن عبْدُالعزیز کی جانب سے یزید بن عبْدُالملک کی طرف ہے:
سَلَامٌ عَلَیْکَ!میں تمہارےساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمدکرتاہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں اما بعد!بیماری کی تکلیف نے مجھے وفات کےقریب کردیاہےاورمیں جانتا ہوں کہ مجھ سےاُمورِخلافت کےمتعلق پوچھاجائے گا،دنیا اورآخرت کامالک اس بارے میں میرا احتساب فرمائےگااورمیں اس سے اپنا کوئی عمل چھپانہ سکوں گا کیونکہ وہ ارشاد فرماتا ہے:
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیۡہِمۡ بِعِلْمٍ وَّمَاکُنَّا غَآئِبِیۡنَ ﴿۷﴾ (پ۸،الاعراف:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے۔
اگروہ رحیم مجھ سے راضی ہوا تومیں کامیاب ہوجاؤں گااورلمبی رُسوائی سےنجات پاجاؤں گا۔ہائے افسوس! اگروہ ناراض ہواتو بُرے ٹھکانے کی وجہ سے میرےنفس کی خرابی ہے،میں خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں عرض کرتاہوں کہ مجھے اپنی رحمت سےعذابِ جہنَّم سےدورفرما،اپنی رضااورجنت بطورِاِنعام عطافرما۔ میں تمہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّاوررعایا کےحقوق کےمعاملے میں ڈرتےرہنے کی وصیت کرتاہوں کہ تم بھی میرے بعد کم عرصہ ہی دنیامیں رہوگے پھر لطیف وخبیر ذات سے جاملوگے۔وَالسَّلَام
(7221)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن یزیدبن جابرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےمَرضِ وِصال میں یزیدبن عبْدُالملک کی طرف سابقہ مضمون جیساخط لکھا مزید اس میں یہ الفاظ بھی تھے:”میں خلافت کی وجہ سے اِنتہائی فکر مندہوں،معلوم نہیں مجھےکن کن آزمائشوں کا سامنا ہوگا، اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بخش دیا تویہ اسی درگزرفرمانے والی رحیم ذات کی شان ہےلیکن اگر اُس نے میرے گناہ پر میری پکڑفرمائی تو ہائے افسوس!میرےاَنجام پر۔“
خیانت کرنے والوں کےقتل سے اِجتناب:
(7222)…حضرتِ سیِّدُنا یزیدبن مُردانیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے(کوفہ کےگورنر)حضرتِ سیِّدُناعبْدُالحمیدبن عبْدُالرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی طرف خط لکھا جس